سوانح حضرت علیؓ — Page 6
9 8 نے جب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں سے خون بند نہیں ہو رہا تو چٹائی جلا حضرت علیؓ نے اس کی متکبرانہ رجز کا جواب اشعار ہی میں اس طرح دیا ھے أَنَا الَّذِي سَمَّتَنِي أُمِّي حَيْدَرَهُ کر اس کی راکھ سے زخموں کے منہ بند کیے۔غزوہ خندق 5 ہجری میں غزوہ خندق پیش آیا۔اس میں مدینہ کے اردگر دخندق کھود کر مسلمانوں نے دفاع کیا۔کفار کبھی کبھی خندق میں گھس کر حملہ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيْهِ الْمَنْظَرَهُ میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر ( شیر ) رکھا ہے۔کچھاروں کے مہیب کرتے تھے۔ایک مرتبہ حملہ ہوا تو حضرت علیؓ نے چند ساتھیوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ڈراؤنے شیر کی مانند۔جس کا چہرہ انتہائی بارعب ہوتا ہے۔ان کے سردار عمر و بن عبدود نے کسی کو تنہا مقابلہ کی دعوت دی تو حضرت علی سامنے آئے۔فتح مکہ رمضان 8ء میں مکہ پر فوج کشی کی تیاریاں شروع ہوئیں اور جب مکہ فتح ہوا 8ھ عمر و بن عبدود نے حضرت علیؓ کو دیکھ کر استہزاء کرتے ہوئے کہا کہ تم جاؤ میں تمہیں قتل نہیں اور وقت آیا کہ خانہ کعبہ کو بتوں کی آلائشوں سے پاک کیا جائے تو آنحضرت کرنا چاہتا۔حضرت علی نے کہا لیکن میں تم کو قتل کرنا چاہتا ہوں وہ طیش میں آ کر گھوڑے سے صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اس فریضہ کو ادا کیا آپ خانہ کعبہ کے گرد جس قدر بت تھے نیچے اُترا اور وار کیا۔تھوڑی دیر کے مقابلہ کے بعد عمر و بن عبدود کو حضرت علیؓ نے مارڈالا۔سب کو لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور یہ آیت تلاوت فرماتے جاتے تھے۔جَاءَ الْحَقُّ وَ دیگر غزوات مثلاً غزوہ بنو نضیر اور غزوہ بنو قریظہ میں بھی حضرت علیؓ نے شرکت کی اور زَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً۔پھر خانہ کعبہ کے اندر سے حضرت ابراہیم و اسماعیل آپ کے ہاتھ میں جھنڈا ہوتا تھا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کفار اور مسلمانوں کے درمیان علیہما السلام کی تصویروں کو وہاں سے ہٹایا اور تطہیر کعبہ کے بعد اندر داخل ہوئے۔معاہدہ لکھنے کا وقت آیا تو حضرت علی نے ہی معاہدہ لکھا۔فتح مکہ کے بعد اسی سال غزوہ حنین کا عظیم الشان معرکہ پیش آیا جس غزوہ حنین فتح خیبر 7 ہجری میں بد عہدی کرنے والے خیبر کے یہودیوں پر فوج کشی کی گئی۔یہاں میں مد مقابل فریق نے تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔مجاہدین اس ناگہانی یہود کے بڑے بڑے قلعے تھے اور ان پر یہود کو بہت فخر تھا کہ یہ آسانی سے مصیبت سے ایسے پریشان ہوئے کہ بارہ ہزار نفوس میں سے صرف چند ثابت قدم رہ سکے تسخیر ہونے والے نہیں۔متعدد دن گزر گئے اور مسلمانوں کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو اور ان میں سے ایک حضرت علی بھی تھے۔آپ نہ صرف پامردی اور استقلال کے ساتھ قائم سکی۔ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں اس کو جھنڈا دوں گا جو خدا اور رہے بلکہ دشمنوں کے سردار پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیا اور دوسری طرف جو مجاہدین اس کے رسول کا محبوب ہے اور خیبر کی فتح اس کے ہاتھ سے مقدر ہے۔صبح ہوئی تو آنحضرت ثابت قدم رہ گئے تھے وہ اس بے جگری کے ساتھ لڑے کہ مسلمانوں کی ابتری اور پریشانی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علی کہاں ہے۔حضرت علیؓ آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا کے باوجود دشمن کو شکست ہوئی۔(سیرت ابن ہشام) تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا جس سے حضرت علی کو شفا ہو گئی۔آپ نے جھنڈ ا حضرت علی کے ہاتھ میں پکڑایا۔اہل بیت کی حفاظت 9 ہجری میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کا قصد فرمایا تو حضرت علیؓ کو اہل بیت کی حفاظت کے لیے یہود کا سردار مرحب جو ایک نامی پہلوان تھا متکبرانہ انداز میں رجز پڑھتا ہوا نکلا۔مدینہ میں رہنے کا حکم دیا۔شیر خدا کو منافقین کی طعنہ زنی نے رنجیدہ کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ