سوانح حضرت علیؓ

by Other Authors

Page 12 of 14

سوانح حضرت علیؓ — Page 12

21 20 آرائی میں گزرا۔لیکن انہوں نے ہمیشہ دشمنوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا۔ایک دفعہ ایک لڑائی امور میں شریک مشورہ کئے جاتے تھے۔واقعہ افک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے میں جب ان کا حریف گر کر برہنہ ہو گیا تو اس کو چھوڑ کر الگ کھڑے ہو گئے کہ اس کو گھر کے راز داروں میں جن لوگوں سے مشورہ کیا ان میں سے ایک حضرت علی بھی تھے۔غزوہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔جنگ جمل میں حضرت عائشہ ان کی حریف تھیں۔لیکن جب ایک طائف میں آپ نے ان سے اتنی دیر تک سرگوشی فرمائی کہ لوگوں کو اس پر رشک ہونے لگا۔شخص نے ان کے اونٹ کو زخمی کر کے گرایا تو خود حضرت علیؓ نے آگے بڑھ کر ان کی خیریت خلافت راشدہ کے زمانہ میں وہ حضرت ابو بکر و عمر دونوں کے مشیر تھے۔چنانچہ حضرت دریافت کی اور ان کو ان کے طرفدار بصرہ کے رئیس کے گھر میں اتارا۔حضرت عائشہ کی فوج ابوبکر صدیق نے مہاجرین و انصار میں جو مجلس شوری قائم کی تھی اس کے رکن حضرت علی بھی کے تمام زخمیوں نے بھی اس گھر کے ایک گوشے میں پناہ لی تھی۔حضرت علی حضرت عائشہ سے تھے۔حضرت عمرؓ کو ان کی رائے پر اتنا اعتماد تھا کہ جب کوئی مشکل معاملہ پیش آ جاتا تو حضرت ملنے کے لیے تشریف لے گئے لیکن ان پناہ گزیں دشمنوں سے کچھ تعرض نہیں کیا۔جنگ جمل میں جو لوگ شریک جنگ تھے ان کی نسبت بھی عام منادی کرادی کہ بھاگنے والوں کا تعاقب نہ کیا جائے۔زخمیوں کے اوپر گھوڑے نہ دوڑائے جائیں۔مال غنیمت نہ لوٹا جائے۔جو ہتھیار ڈال دے اس کو امان ہے۔“ علی سے مشورہ کرتے تھے۔حدیث کی کتابوں میں بہت سے ایسے پیچیدہ مقامات مذکور ہیں جن کا فیصلہ حضرت علیؓ نے کیا اور جب وہ فیصلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے فرمایا۔مَا أَجِدُ فِيْهَا إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ میرے نزدیک بھی اس کا وہی فیصلہ ہے (مستدرک جلد 3 صفحہ 367) ان کا سب سے بڑا دشمن ان کا قاتل ابن ملجم ہوسکتا تھا لیکن انہوں نے اس کے متعلق جو علی نے کیا۔“ جو آخری وصیت کی تھی وہ یہ تھی کہ اس سے معمولی طور پر قصاص لینا ، مثلہ نہ کرنا۔یعنی اس کے ہاتھ پاؤں اور ناک نہ کاٹنا۔ابن سعد میں ہے کہ جب وہ آپ کے سامنے لایا گیا تو فرمایا کہ (ازالۃ الخفاء صفحہ 262 عن حمید بن عبد اللہ بن یزید المدنی ) شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخفاء میں حضرت علیؓ کے محاسن اخلاق پر ایک نہایت اس کو اچھا کھانا کھلاؤ اور اس کو نرم بستر پر سلاؤ۔اگر میں زندہ بچ گیا تو اس کے معاف کرنے جامع بحث کی ہے جس کا خلاصہ دینا یہاں مناسب ہوگا۔وہ لکھتے ہیں۔یا قصاص لینے کا مجھے اختیار حاصل ہوگا اور اگر میں مرگیا تو اس کو مجھ سے ملا دینا میں خدا کے سامنے اس سے جھگڑ لوں گا۔(طبقات تذکرہ علی بن ابی طالب ) دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک کی اس سے اعلیٰ مثال اور کیا ہوسکتی ہے؟ حضرت علی کے مشورہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور آپ کی رائے پر عہد نبوی ہی سے اعتماد کیا جاتا تھا چنانچہ آپ تمام اہم اصابت رائے ” وہ بڑے بڑے لوگوں کی سرشت میں جو عظیم الشان اخلاق داخل ہوتے ہیں مثلاً شجاعت ، قوت، حمیت اور وفا۔وہ سب ان میں موجود تھے اور فیض ربانی نے ان سب کو اپنی مرضی میں صرف کیا اور ان کے ایک ایک خلق کے ساتھ اس فیض ربانی کی آمیزش سے ایک ایک مقام پیدا ہوا۔ریاض النظرہ میں ہے کہ جب وہ راہ چلتے تھے تو ادھر ادھر جھکے ہوئے چلتے تھے اور جب کسی کا ہاتھ پکڑ لیتے