سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 9 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 9

15 14 جو بدر کہلاتا تھا۔یہاں پہنچ کر مسلمان ٹھہر گئے۔دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔کا کسی مسلمان سے قریبی رشتہ تھا۔فوجی لحاظ سے مسلمانوں کی تعداد کافروں کے مقابلہ پر اتنی کم اور لڑائی کے ہتھیاروں حضرت ابو بکر کے بیٹے عبد الرحمن اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے اور بدر کی کے لحاظ سے اتنے کم ہتھیار ان کے پاس تھے کہ بظاہر مسلمانوں کا ان سے مقابلہ کرنا لڑائی میں کافروں کی طرف سے لڑے۔جب وہ مسلمان ہو گئے تو ایک دفعہ حضرت بھی ناممکن تھا۔اس حالت کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے ابوبکر سے کہنے لگے کہ غزوہ بدر میں ایک دفعہ میں آپ کو مار سکتا تھا مگر میں نے باپ اللہ ! جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا تھا اسے پورا کر۔اے اللہ ! اگر آج مسلمانوں کا یہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔حضرت ابو بکڑ نے کہا اگر ایسا موقع مجھے ملتا تو میں تمہیں کبھی سا گروہ ہلاک ہو گیا تو پھر زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ملے گا۔حضور کی نہ چھوڑتا۔دعا میں بے چینی دیکھ کر حضرت ابو بکر آپ سے بار بار عرض کرتے تھے۔یا رسول اللہ ! رسول اللہ نے قیدیوں کے متعلق صحابہ سے مشورہ کیا۔حضرت عمر کی رائے تھی کہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا۔آپ بس کریں۔سب قتل کر دیے جائیں لیکن حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ یہ سب اپنے ہی بھائی ہیں اس لیے ابھی آپ دعا کر رہے تھے کہ خدا نے آپ کو بتایا کہ مسلمان جیت جائیں گے۔ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور فدیہ لے کر ان کو آزاد کر دینا چاہیے۔حضور آپ نے دعا ختم کر کے حضرت ابو بکر سے فرمایا: ” جلد ہی کا فر ہار کر میدان سے بھاگ نے حضرت ابو بکر کا مشوہ مان لیا اور اسی پر عمل کیا۔جائیں گے۔“ میدان جنگ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صحابہ نے ایک چھتر سا بنا دیا۔آپ اس چھتر میں بیٹھے اور حضرت ابو بکر ہاتھ میں تلوار لے کر 66 غزوہ احد آپ کی حفاظت کرتے رہے۔عرب کے رواج کے مطابق ایک ایک آدمی کا مقابلہ ختم غزوہ بدر میں ہارنے کا قریش کو سخت غصہ تھا اور دوبارہ حملے کی تیاریاں کرنے ہوا۔عام لڑائی شروع ہوئی۔حضرت ابوبکر" لشکر کے دائیں بازو کی کمان کر رہے تھے۔لگے۔آخر ایک سال بعد جب ان کی ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں تو کافروں کا تین ہزار زبردست لڑائی کے بعد جس میں کافروں کے ستر آدمی جن میں ان کے بڑے بڑے کا لشکر رمضان 3ھ بدھ کے روز شمال کی طرف،اُحد کے پہاڑ کے قریب پہنچ گیا۔رسول لوگ ابو جہل، عتبہ اور شیبہ بھی شامل تھے ، مارے گئے اور ستر آدمی قیدی بنائے گئے۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات سو مسلمانوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔جنگ میں باقی فوج میدان سے بھاگ گئی۔مسلمان اس لڑائی میں کس طرح لڑے تھے اس کا مسلمانوں نے کافروں کا حملہ روک کر انہیں پیچھے دھکیل دیا۔مسلمانوں کی فوج کے پچھلی اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ کافروں کی فوج میں سے اکثر کی قریبی رشتہ داری ان طرف درہ کی حفاظت کے لیے جو پچاس مسلمان کھڑے کیے گئے تھے تاکہ کا فرمسلمان مهاجرین سے تھی جن سے وہ لڑ رہے تھے اور مرنے والے ستر کافروں میں سے ہر ایک فوج پر پیچھے سے حملہ نہ کر سکیں ، فتح کی خوشی میں وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر میدان میں آگئے اور