سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 23 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 23

43 42 اے کاش تیری وفات کے بعد قیامت آجاتی اور ہم تیرے بعد مال اور اولا دکو نہ دیکھ پاتے تیرے بعد میں جب یہ سوچتا ہوں کہ اب آپ کو دیکھ نہ سکوں گا تو مجھے کتناغم پہنچتا ہے“۔(ابن سعد ) تواضع انکساری آپ کی سیرت کا ایک درخشاں پہلو ہے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی ایک نابینا بڑھیا کی خبر گیری کرتا اور اسے پانی بھر کر لا دیتا۔لیکن جب میں اس کے پاس اس غرض کے لیے جاتا تو مجھ سے پہلے کوئی شخص یہ کام کر کے جاچکا ہوتا۔ایک دن اسی ٹوہ میں رہا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابوبکر ایک دن حضرت ابوبکر نے دیکھا ایک پرندہ درخت سے پھل کھا رہا ہے۔کچھ ہیں حالانکہ وہ خلیفہ تھے اور میں نے کہا میری عمر کی قسم یہ آپ ہی تھے جو ہر روز مجھ سے نیچے گر رہا ہے تو فرمایا: "اے پرندے تجھے مبارک ہو تو پھل کھاتا ہے اور درختوں پر بیٹھا ہے کاش میں بھی پھل ہوتا پرندہ آتا اور کھالیتا۔اے پرندے! اللہ کی قسم میں پسند کرتا ہوں میں رستہ کے ایک طرف درخت ہوتا وہاں سے اونٹ گزرتا مجھے منہ میں ڈال لیتا اور چبالیتا ایک انگوٹھی بنوائی تو اس پر کندہ کروایا: ” خدائے بزرگ و عظیم کا حقیر غلام خلافت کے بعد سب سے پہلی تقریر بھی آپ کی تواضع و انکساری کی دلیل ہے جس میں آپ نے فرمایا: ”اے لوگو میں تمہارا والی بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔پس اگر میں درست رہوں تو میری مدد کرنا اور اگر کج ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کرنا“۔خدمت خلق خدا اور اس کے رسول سے بے انتہا محبت کے ساتھ ساتھ بنی نوع کی ہمدردی بھی سبقت لے جاتے۔جب آپ خلیفہ ہوئے تو جہاں آپ کی رہائش تھی پڑوس میں ایک یتیم بچی تھی جس کی بکریوں کا دودھ دوہ کر آپ دیا کرتے تھے۔جب آپ خلیفہ بنے تو بچی کہنے لگی کہ اب میری بکریوں کا دودھ کون دوہ کر دیا کرے گا۔آپ نے فرمایا: میں دوہا کروں گا۔اور میں چاہتا ہوں جو خلق میرے تھے ان میں کوئی تغیر نہ ہو چنانچہ آپ خود اس کی بکریوں کا دودھ دوہ دیا کرتے“۔ایک بڑھیا کا ذکر ہوا ہے۔اور غالبا یہ وہی بڑھیا تھیں کہ حضرت ابو بکر جب ایک روز اس کی خدمت کے لیے نہیں جا سکے تو اس کو یقین ہو گیا کہ ابوبکر اس دنیا میں نہیں رہے۔اس حیرت انگیز خدمت خلق کے واقعہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر کی وفات کے روز بغیر اس کے کہ اس کو کسی نے خبر دی ہو خود بخود کہنے لگی کہ آج ابوبکر مر گیا ہے لوگوں نے پوچھا کہ تجھ کو کس طرح سے معلوم ہوا اس نے کہا کہ ہر روز مجھ کو آپ وو