سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 18
33 32 قلع قمع کیا کہ مسیلمہ اور اسود عنسی تو قتل ہوئے اور عینیہ بن حصن نے بعد میں دوبارہ قائم رہا تو قرآن شریف کا بہت سا حصہ ضائع ہی نہ ہو جائے۔چنانچہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور سجاح بنت حارثہ نے فرار کی راہ اختیار کی۔حضرت ابوبکر کی خدمت میں عرض کیا کہ اے خلیفۃ الرسول ! قرآن مجید کو ایک جگہ منکرین زکوة کی سرکوبی ترتیب کے ساتھ جمع کر دیں۔شروع میں تو حضرت ابو بکر کو انشراح نہ ہوا کہ جو کام جھوٹے مدعیان نبوت کی بغاوت سے شہ پا کر ایک گروہ بہت بھاری تعداد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں کیا میں کیسے کروں لیکن جب خدا تعالیٰ کی طرف ایسا بھی تھا جو کہ یا تو اسلام سے ارتداد اختیار کر کے مرکز اسلام پر حملہ آور ہونے کی سے آپ کو انشراح ہوا تو آپ نے حضرت زید بن ثابت کو حکم دیا کہ قرآن مجید کو ایک سوچ رہا تھا اور بعض ایسے بھی تھے جو کہ بظاہر تو مسلمان ہونے کا اعلان کر رہے تھے جگہ مرتب کیا جائے۔چنانچہ حضرت زید بن ثابت نے اس خدمت کو سرانجام دیا۔لیکن زکوۃ سے انکار کر دیا اور یہ مرکزی نظام سے اعلانیہ بغاوت تھی۔یہاں یہ وضاحت مناسب ہے کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ پہلے قرآن حضرت ابوبکر صدیق کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس موقعہ مجید لکھا ہوا نہیں تھا یا اس کی ترتیب نہیں تھی ، ایسی بات نہیں۔پر ان تمام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جو نظام خلافت کو کمزور کرنے والے تھے یا مرکزیت کے منافی تھے۔قرآن مجید ساتھ ساتھ لکھا جا تا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود لکھواتے تھے۔چنانچہ حضرت زید بن ثابت قسمیت چالیس کے قریب ایسے صحابہ ہیں جن کے نام چنانچہ اس پر عزم اور سخت تادیبی کارروائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ فتنہ ختم ہو گیا۔بعد میں کاتبین وحی کے طور پر تواریخ میں آتے ہیں اور صحابہ اس کی تلاوت کرتے اور اسی دیگر صحابہ کو بھی یہ اعتراف کرنا پڑا کہ حضرت ابو بکر کا یہ فیصلہ گہری فراست اور حکمت پر ترتیب سے تلاوت ہوتی جس ترتیب میں اب ہمارے پاس قرآن مجید ہے۔اور آنحضرت خود فرماتے تھے کہ یہ آیات فلاں سورۃ میں فلاں جگہ لکھو۔تو قرآن مبنی درست فیصلہ تھا۔جمع قرآن شریف پہلے سے لکھا ہوا تھا، سورتوں اور آیات کی ترتیب تک آنحضرت کے زمانہ اور راہنمائی میں مکمل ہو چکی تھی۔لیکن یہ سب متفرق اجزا میں تھا کچھ ہڈیوں پر لکھا ہوا تھا ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت ابوبکر نے مسیلمہ اور دوسرے باغیان اسلام کے خلاف کچھ کھجور کی چھال وغیرہ پر لکھا ہوا تھا۔حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں لشکر روانہ کیا تھا۔مختلف جگہوں پر ان باغی گروہوں حضرت ابوبکر کا کارنامہ یہ تھا کہ ان سب متفرق اجزاء کو ایک جگہ جمع کر دیا۔سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا اور بہت سے حفاظ قرآن شہید ہوئے۔خصوصاً یمامہ کی جنگ الغرض یہ مدوّن قرآن کریم حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت کے بعد حضرت عمرؓ کے میں اس قدر صحابہ شہید ہوئے کہ حضرت عمر کو اندیشہ ہوا کہ اگر شہادتوں کا یہی سلسلہ پاس آیا اور حضرت عمرؓ نے حضرت حفصہ کے پاس رکھوادیا۔