سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 17
31 30 آنحضرت کی زندگی میں یہ لشکر تقریباً روانہ ہو چکا تھا۔لیکن ابھی مدینہ میں ہی تھا کہ حضور کی وفات ہوگئی اور لشکر کی روانگی ملتوی ہوگئی۔اب جب حالات نے ایک دم پلٹا کھایا اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں ”اگر میں تھوڑی دیر تک اپنے پاؤں راہِ خدا میں غبار آلود کرلوں تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔الغرض حضرت اسامہ کا لشکر شام کی طرف روانہ ہوا اور چالیس دن کے بعد انتہائی نے ارتداد اختیار کر کے بغاوت کر دی اور یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ یہ باغیوں کے گروہ کامیابی کے ساتھ اپنے تمام مقاصد کو حاصل کرنے کے بعد یہ لشکر مدینہ واپس پہنچا۔مدینہ پر حملہ آور نہ ہو جائیں۔تو اس خطرے کے وقت صحابہ کرام کی یہ رائے تھی کہ اس صحابہ کرام کے ساتھ حضرت ابو بکر نے مدینہ سے باہر جا کر اس لشکر کا استقبال فرمایا۔لشکر کی روانگی فی الحال منسوخ کر دی جائے اور پہلے ان باغیوں سے نمٹ لیا جائے اور پھر بعد میں لشکر کو روانہ کیا جائے۔لیکن حضرت ابوبکر صدیق جواب خلیفہ رسول تھے، انہوں نے یہ پسند نہ کیا کہ شکر کے جس جھنڈے کی گرہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت اور اس کا خاتمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض ایسے لوگ کھڑے ہو گئے تھے جن کا لگائی تھی اس گرہ کو اب ابو بکر کھول دے۔آپ نے کمال جوانمردی اور جلال سے فرمایا مقصد اقتدار کا حصول تھا اور اس کو حاصل کرنے کے لیے ان کے ذہن میں یہ آیا کہ کہ:۔” خدا کی قسم اگر مدینہ اس طرح آدمیوں سے خالی ہو جائے کہ درندے آکر میرے جسم کو گھینٹے لگیں تب بھی میں اس مہم کو روک نہیں سکتا اور اس کو جانے کا حکم دوں گا"۔نبوت کا دعویٰ کر کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا شاید آسان ہو۔جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایسے لوگوں کی تعداد اور قوت میں اضافہ ہونے لگا اور اب انہوں نے مرکز خلافت کے بالمقابل اپنے آزاد نظام کا اعلان کر کے بغاوت کا علم بلند کر دیا اور مسلمانوں کے لیے مستقل خطرے چنانچہ ان مشکل لمحات کے باوجود آپ نے حضرت اسامہ کو روانگی کا حکم دیا اور کا باعث بنے لگے۔ان حالات میں حکومت وقت کے خلاف اٹھنے والے ان باغیوں خود اس طرح حضرت اسامہ کو ہدایات فرمائیں کہ اسامہ سپہ سالار لشکر گھوڑے پر سوار کی سرکولی بہت ضروری تھی۔تھے اور حضرت ابوبکر پیدل گھوڑے کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔اس پر حضرت حضرت ابوبکر صدیق نے ایسے مفسدوں کی اس بغاوت کو کچلنے کے لیے حضرت اسامہ نے عرض بھی کیا کہ اے خلیفہ رسول ! آپ گھوڑے پر سوار ہو جائیں وگرنہ میں خالد بن ولید کی سرکردگی میں لشکر ترتیب دیا۔چنانچہ آپ کی معاونت کے لیے حضرت بھی نیچے اتر آتا ہوں۔حضرت ابوبکر نے فرمایا : - ثابت بن قین اور شرجیل بن حسنہ نے مختلف مقامات پر مسیلمہ کذاب اسود فنسی سجاح بنت حارث عینیہ بن حصن وغیرہ کے لشکروں کا مقابلہ کر کے اس طرح اس بغاوت کا