سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 11 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 11

19 18 سے بھاگ گئے۔ایک مہینہ تک بغیر کسی لڑائی کے بیٹھے رہنے سے کافر پہلے ہی تنگ میں آپ کو پتہ لگا کہ قریش مسلمانوں کو عمرہ نہیں کرنے دیں گے اور اگر مسلمانوں نے آئے ہوئے تھے۔اس نئی مشکل سے گھبرائے ہوئے قریش واپس مکہ کو چل پڑے۔کوشش کی تو لڑائی کریں گے۔یہ خبر سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں ٹھہر قریش کا جانا تھا کہ باقی قبیلے بھی اپنے اپنے گھروں کو چل پڑے اور میدان میں صرف گئے۔یہاں قریش کی طرف سے کئی سفیر آئے۔مسلمانوں اور قریش میں بات چیت یہودی قبیلہ بنوقریظہ کے لوگ رہ گئے جن کی کوششوں سے یہ ساری فوج جمع ہوئی تھی۔ہوتی رہی۔آخر قریش نے عروہ بن مسعود کو بھیجا۔عروہ نے آکر کہا کہ مکہ والے لڑنے جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اکیلے رہ گئے ہیں تو اپنے قلعے کے دروازے بند کر کے اندر کے لیے بالکل تیار ہیں اور مسلمانوں کو کسی حال میں بھی عمرہ کی اجازت نہیں دیں گے۔بیٹھ گئے۔مسلمانوں نے حملہ کیا اور آخر بنو قریظہ نے اس شرط پر ہار مان لی کہ حضرت ابو بکڑ بھی پاس ہی تھے۔عمروہ کی بات سن کر چپ نہ رہ سکے اور کہنے لگے: انہوں نے جو غزاری کی ہے اس کی سزا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ دیں بلکہ قبیلہ اوس ٹھیک ہے اگر لات اور علاقی بتوں کو ماننے والے لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں تو کیا کے رئیس سعد بن عبادہ جو فیصلہ کریں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور یہودی دونوں اس فیصلہ کو مانیں۔رسول اللہ اور مسلمانوں نے ان کی یہ شرط مان لی۔سعد نے یہودیوں کی مذہبی کتاب تورات کے مطابق سزا دینے کا فیصلہ کیا اور غداری ، دھوکہ دینے اور معاہدہ توڑنے کے جرم میں ان کے لڑنے والے لوگوں کو قتل کی سزا دی۔اس لڑائی میں خندق کے ایک حصہ کی حفاظت حضرت ابوبکر اور آپ کے ماتحت فوجیوں کے سپر دتھی۔بعد میں اس جگہ ایک مسجد بنائی گئی جس کو مسجد صدیق کہا جاتا ہے۔صلح حدیبیہ تمہارا خیال ہے کہ ہم حضور کا ساتھ نہیں دیں گے۔عروہ کو بڑا غصہ آیا۔اس نے کہا کہ میرے پر ابوبکر کے احسان ہیں۔اگر مجھے ان احسانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں بھی اس بات کا جواب دیتا۔اس دوران رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھجوایا۔آپ ابوسفیان اور دوسرے سرداروں سے ملے۔ان کے دیر سے آنے کی وجہ سے مسلمانوں میں مشہور ہو گیا کہ قریش نے ان کو مار دیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں سے بیعت لی اور وعدہ لیا کہ وہ حضرت عثمان کا بدلہ لے کر رہیں گے۔اس بیعت کو بیعت رضوان کہتے ہیں۔بعد میں پتہ لگا کہ خبر غلط تھی۔عثمان زندہ ہیں۔6 ھ ذیقعدہ کے مہینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1400 مسلمانوں کے ساتھ آخر قریش کی طرف سے سہیل سفیر ہو کر آئے۔ان کے ساتھ بات چیت کے بعد عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔آپ نے اس بات کا اعلان کر دیا تھا کہ مسلمان معاہدہ طے ہو گیا۔معاہدہ کی شرطیں بظاہر ایسی تھیں جن سے لگتا تھا کہ مسلمان کا فروں صرف عمرہ کرنا چاہتے ہیں۔قریش سے لڑائی نہیں کرنا چاہتے ، اسی لیے انہوں نے سے دب گئے ہیں مگر اصل میں ساری شرطیں مسلمانوں کے فائدہ کی اور کافروں کے احرام باندھے ہوئے تھے اور قربانی کے لیے جانور بھی ساتھ لیے تھے۔راستے نقصان والی تھیں۔بعض صحابہ اس بات کو سمجھ نہ سکے اور بہت غصہ میں آئے اور حضرت