سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 24 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 24

نام کتاب:۔حضرت ابوعبیدہ بن الجراح //////// 42 غالباً جتنا کام حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اور ان ابتدائی جاں نثار صحابہ رسول اللہ علی اللہ کے مقدر میں تھا وہ احسن رنگ میں سرانجام پاچکا تھا اور اب ان کی علوسم واپسی کا وقت آ گیا تھا۔چنانچہ اسی بیماری کی زد میں آکر حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کا سرزمین شام میں سنہ 18ھ (مطابق 638 ء یا 639ء) میں انتقال ہو گیا اور انہیں شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔وفات کے وقت ان کی عمر اٹھاون برس تھی۔حضرت معادؓ بن جبل نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور یوں گویا ہوئے:۔آج ہم میں سے ایک ایسا شخص اُٹھ گیا ہے جس سے زیادہ صاف دل زیادہ ہے کینہ سیر چشم اور خلق خدا کے لئے زیادہ خیر خواہ خدا کی قسم ! میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔آپ سب اس کے لئے رحم اور مغفرت کی دعا کریں۔“ (اصابہ ) حضرت ابو عبیدہ کے علاوہ اسلامی فوج کے ابتدائی سپہ سالاروں میں سے شرحبيل بن حسنہ یزید بن ابی سفیان اور ضرار بن الا زور بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔حضرت خالد بن ولید پہلے ہی فوج سے فارغ ہو چکے تھے۔اس لئے اسلامی افواج کی قیادت عمر و بن العاص نے سنبھال لی۔انہوں نے افواج کو در فلسطین کی پہاڑیوں میں منتشر کر دیا تا ہم اس وبا کے دوران 25 ہزار مسلمان اس دار فانی سے رحلت کر گئے۔تاہم ان میں سب سے زیادہ خوبیوں کے مالک حضرت ابوعبیدہ بن الجراح تھے۔شام اور ///