سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 13
21 20 خطرے میں اضافہ ہوتا گیا۔حضرت ابوبکر نے عراق کی طرف حضرت صفر سنہ 13ھ (مطابق اپریل 634ء) میں یہ شکر شام کے محاذ کے لئے خالد بن الولید کوسپہ سالار بنا کر بھیجا جہاں تقریباً سوا سال کے عرصے میں مدینہ سے روانہ ہوئے چاروں لشکروں کی روانگی میں ایک ایک دن کا وقفہ تھا۔دجلہ اور فرات کے ساتھ ساتھ خالد بن ولید نے نہ صرف سب علاقے فتح کئے میں اپنا لشکر لے کر معرقہ کے راستے شام کی طرف روانہ ہوا قیصر روم اس وقت بلکہ فارس کی عظیم سلطنت کی بنیادیں ہلا دیں۔اس دوران شام میں خطرات حمص میں تھا۔قیصر روم ہر قل (Heracluis) کو جب اس کی اطلاع ملی تو بڑھ گئے۔حضرت ابوبکر" کا بھجوایا ہوا دستہ جو خالد بن سعید کے زیر کمان تھا سنہ اس نے اجنادین میں فوجیں اکٹھی کرنی شروع کر دیں جہاں سے وہ فلسطین یا 12ھ کے آخر میں (634ء کے شروع میں ) تیما سے شام کی سرحد پر رومی اردن میں داخل ہونے والی کسی بھی اسلامی فوج کے خلاف کاروائی کر سکتا تھا۔فوج کے ساتھ الجھ پڑا۔قریب تھا کہ وہ بری طرح نقصان اٹھا تا لیکن عکرمہ بن رومیوں کی فوج جو اجنادین میں اکٹھی ہو رہی تھی اس کی تعداد ایک لاکھ تھی۔ابی جہل اس موقع پر موجود تھے انہوں نے بگڑی ہوئی صورت کو سنبھالا اور حضرت ابو بکر کو علم ہوا تو انہوں نے اس عزم کا ارادہ کیا اور فرمایا کہ:۔اسلامی لشکر کو خطرے سے نکالا۔میں خالد بن الولید کے ذریعے رومیوں اور شیطان کے ساتھیوں ان حالات میں حضرت ابو بکر نے شام کے با قاعدہ محاذ کے لئے سات سات ہزار افراد پر مشتمل چارلشکر تیار کئے اور ان پر الگ الگ سالار مقرر فرمائے۔ا۔۲۔٣۔۴۔عمر و بن العاص فلسطین کے لئے یزید بن ابی سفیان دمشق کے لئے شرحبيل بن حسنه اردن کے لئے ابو عبيدة بن الجراح حمص کے لئے کو نیست و نابود کروں گا۔(طبری) خالد بن الولید عراق کے محاذ پر تھے انہیں حکم ملا کہ فوراً شام پہنچیں انہوں نے خلیفہ وقت کے حکم سے نصف فوج عراق میں چھوڑی اور باقی نصف فوج لے کر ایک لق و دق صحرا کو عبور کیا اور بڑی جرات سے فوج کو لے کر شام پہنچے انہوں نے اپنی اس جنگی ترکیب سے دشمن کو اپنی آمد کا علم نہ ہونے دیا۔حضرت ابوبکڑ نے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ اگر ان چاروں لشکروں کو کسی بصری کی فتح موقع پر اکٹھا لڑنا پڑے تو پورے اسلامی لشکر کا سالار اعظم میں (ابوعبیدہ) ہوں گا۔میں اپنا لشکر لے کر معرقہ کے رستے شام میں داخل ہوا تھا۔یرموک سے گذرتے ہوئے میں نے بصری کو محاصرے میں لے لیا شمر خبیل کا دستہ بھی //////// ///////