سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 9 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 9

13 12 پیاسے تھے۔وہ آنحضرت ﷺ کے جانثاروں میں شامل ہو گئے۔یہ انقلاب آنحضرت ﷺ کی دعاؤں اور قربانیوں کے نتیجے میں رونما ہوا۔صلى الله عمر و بن العاص جب اپنا لشکر لے کر مقام مقصود پر پہنچے تو انہیں علم ہوا کہ صلى الله دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔چنانچہ انہوں نے ایک قاصد کو آنحضرت علی فتح مکہ آنحضرت ﷺ کے غزوات کا سب سے اہم واقعہ ہے اس کے کے پاس بھیج کر امداد کی درخواست کی۔آنحضرت ﷺ نے ان کی مدد کے بعد بعض اور غزوات بھی ہوئے جن میں غزوہ حنین اور غزوہ طائف خاص طور لئے مجھے دوسو مسلمانوں کا لشکر دے کر بھیجا۔میرے لشکر میں حضرت ابو بکر اور پر قابل ذکر ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے ان غزوات میں بھی حضرت عمر بھی شامل تھے۔آنحضور علیہ نے فرمایا کہ جا کر عمر و بن العاص سے مل جائیں اور سب مل کر جہاد کریں اور آپس میں کسی قسم کا اختلاف نہ شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔دیگر مہمات کریں۔چنانچہ ہمارے متحد و لشکر کو دیکھ کر دشمن منتشر ہو گئے۔بڑی مشکل سے ربیع الثانی سنہ 6 ھ میں آنحضرت ﷺ نے ایک دستہ دے کر مجھے قبیلہ ایک گھنٹہ تک لڑائی ہوئی ہوگی۔ثعلبہ اور انمار کو سزا دینے کے لئے بھیجا یہ لوگ مدینہ کے اطراف میں لوٹ مار سریه خبط (سیف البحر ) کرتے تھے۔میں نے ان کے مرکزی مقام ذی القصہ پر چھاپہ مارا پر چھاپہ مارا جس کے رجب سنہ 8 ھ میں قریش کا ایک قافلہ تجارت شام سے واپس آرہا تھا نتیجہ میں یہ لوگ پہاڑوں میں بکھر گئے صرف ایک شخص گرفتار ہوا جس نے اپنی اسے قبیلہ جہنیہ کی طرف سے خطرہ تھا اس لئے آنحضرت علی نے مجھے تین علوسام مرضی سے اسلام قبول کر لیا۔دراصل بعض مہمات صرف تجارت کی آزادی اور ومسلمانوں کا لشکر دے کر مدینہ سے 5 دن کی مسافت پر جہنیہ کے علاقہ کی عام امن و امان قائم رکھنے کی غرض سے معرض وجود میں آئیں۔طرف روانہ فرمایا میرے لشکر میں حضرت عمرؓ بھی شامل تھے۔میں نے خدا پر تو کل کر کے اور ہمت سے کام لے کر اپنے فرض کو نبھایا سفر میں ایک بار ایسی سریہ ذات السلاسل میں شرکت نوبت بھی آئی کہ سارے لشکر کو ایک ایک کھجور پر دن گذار نا پڑا اور کسی نے بھی سنہ 8ھ میں مجھے ذات السلاسل میں بھی شرکت کا موقع ملا۔شکوہ نہ کیا یہ حضرت نے کی تربیت کا نتیجہ تھا۔آنحضرت ﷺ نے شام کی سرحد پر عمر و بن العاص کو تین سو مہاجر و انصار کا یک لشکر دے کر بلی وعذرہ کے قبائل کی طرف بھیجا کہ قبیلہ قضاعہ کے کچھ لوگوں نجران اور بحرین میں خدمات کے ساتھ نمٹا جائے جو مسلمانوں پر حملہ کی نیت سے جمع ہوئے تھے۔تاریخ اسلام میں سنہ 9ھ عام الوفود کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یعنی یہ