سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 10 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 10

15 14 وہ سال ہے جب دور دراز سے وفد مدینہ میں آئے دراصل فتح مکہ کے بعد وصال اکبر اور خلافت راشدہ کا قیام لوگوں کا اسلام کی طرف رجحان پیدا ہوا اور تحقیق کے لئے لوگ کثرت سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اسی سال نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ رسول پاک ﷺ کے پاس آیا اور اسلام کے بارے میں تکمیل ہدایت یعنی قرآن کریم کے نزول کے جلد بعد 12 ربیع الاول سنہ صلى الله 11ھ مطابق 5 جون 632ء کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا وصال رض ہو گیا صحابہ کے لئے یہ بہت غمناک اور مشکل گھڑی تھی بعض لوگ معلومات حاصل کیں۔آنحضرت ﷺ نے اس وفد کو مباہلہ کی دعوت بھی دی آنحضرت ﷺ کی وفات سے انکار کر بیٹھے۔حضرت عمرؓ اپنے آقا محمد رسول جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے۔لیکن وہ لوگ ڈر گئے اور مباہلہ نہ کیا اور الله علی اللہ کے عشق میں تلوار پکڑ کر کھڑے ہو گئے اور کہا جو یہ کہے گا کہ محمد رسول آنحضرت ﷺ سے جزیہ پر صلح کر لی اور تحریری معاہدہ لکھا گیا۔ان کی واپسی اللہ علے فوت ہو گئے میں اس کی گردن کاٹ دوں گا۔اس موقع پر حضرت پر آنحضرت ﷺ نے مجھے تبلیغ اسلام کے لئے اور صدقات کی رقوم اکٹھی ابو بکر اٹھے اور انہوں نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی۔صلى الله کرنے کے لئے ان کے ساتھ نجران بھجوایا اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے علوسام وَمَامُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَائِنُ ج مجھے ”امین الامت“ کا لقب عطا فرمایا۔جو آپ کی طرف سے میری مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَا بِكُمْ دیانتداری کا سرٹیفکیٹ تھا۔بعد میں لوگوں نے مجھے اس لقب سے بلانا شروع کر دیا اسے میں اپنے لئے ایک بہت بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔(آل عمران آیت: 145) کہ محمد صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے سب رسول گزر چکے ہیں۔پس سنہ 9 ھ تک جزیرہ نما عرب کا بیشتر علاقہ اسلامی سلطنت میں آچکا تھا۔اگر وہ وفات پا جائے یا قتل کیا جائے تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے۔صلى الله غیر مسلموں کی حفاظت کی ذمہ داری آنحضرت ﷺ اور تمام مسلمانوں پر تھی الله جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح محمد ﷺ سے پہلے تمام انبیاء وفات جس کے بدلے ان سے جزیہ لیا جاتا تھا۔بحرین سے مصالحت کے بعد علاء پاچکے ہیں اسی طرح آج محمد مینے بھی وفات پاچکے ہیں۔بن حضرمی وہاں امیر مقرر ہوئے۔سنہ 9ھ میں مجھے جزیہ کی وصولی کے سلسلہ اس کے ساتھ ہی خلافت کا سوال اٹھا کہ آنحضرت ﷺ کا خلیفہ کسے میں بحرین کا سفر کرنا پڑا اور میں اپنے کام میں کامیاب و کامران ہو کر واپس بنایا جائے اکثر لوگوں کی نگاہ حضرت ابو بکٹر پر پڑی۔اس موقع پر سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کی طرف سے خلافت کا سوال اٹھایا گیا ان کا خیال تھا کہ خلیفہ انصار مدینہ پہنچا۔