سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 7 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 7

9 8 00 بن معاذ قبیلہ اوس کے ریئس اعظم اور بہت مخلص انسان تھے۔انہوں نے غزوات النبی میں شمولیت میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔آمین جنگوں کا آغاز مدینہ ہجرت کے جلد ہی بعد قریش مکہ اور رسول اللہ اللہ کے درمیان پہلی جنگ بدر کے مقام پر ہوئی۔قریش مکہ نے ایک ہزار کا مسلح لشکر تیار کر کے عرب ایک جنگ جو قوم تھی۔ہجرت مدینہ کے بعد قریش نے مدینہ کے مدینہ پر چڑھائی کر دی۔رؤسا کولکھا کہ محمد (ﷺ) کو مدینہ سے نکال دو ورنہ ہم تمہارے ساتھ جنگ آنحضرت علی تین سو تیرہ صحابہ کو لے کر انہیں مدینہ کے باہر روکنے کریں گے۔اور آئندہ سے تم حج نہیں کرسکو گے۔اس دوران کے لئے نکلے۔میں بھی اس جنگ میں شامل تھا۔کفار کے لشکر میں میرے والد آنحضرت ﷺ کو بھی دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی اجازت مل گئی۔بھی شامل تھے اور اتفاق سے وہ میرے مقابل پر میدان جنگ میں آگئے میں چونکہ دشمن کی طرف سے ہر وقت خطرہ رہتا تھا اس لئے نے اسلام کی سربلندی کے لئے ان کے مقابلہ سے منہ نہ موڑ احتیٰ کہ وہ میرے آنحضرت ﷺ ان کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں قتل ہو گئے۔بدر کی جنگ میں قریش کو شکست فاش ہوئی اور ان کے قافلے مدینہ کے ارد گرد بھیجتے رہتے تھے اس کے علاوہ قریش کے تجارتی قافلے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے۔شام کی طرف آتے جاتے رہتے تھے۔اور وہ بھی مدینہ کے پاس سے گزرتے بدر کا بدلہ لینے کے لئے قریش مکہ نے اگلے سال مدینہ پر پھر چڑھائی کی تھے اس لئے مدافعت اور خبر رسانی کے لئے چھوٹے چھوٹے قافلے بھجوائے اُحد پہاڑی کے دامن میں مقابلہ ہوا مسلمانوں کے لئے یہ بہت مشکل وقت جاتے تھے۔اس دوران قریش نے مدینہ پر کئی بار حملہ کیا جس کے نتیجہ میں کئی تھا۔میں اُحد کی جنگ میں بھی شامل تھا دشمن کی بھاری تعداد کو دیکھ کر منافقوں جنگیں ہوئیں۔جنگ بدر جنگ اُحد جنگ خندق خاص طور پر مشہور ہیں۔یہ کا سردار عبداللہ بن ابی بن سلول تین سو آدمیوں سمیت میدان سے بھاگ سلسلہ صلح حدیبیہ تک جاری رہا جس کے بعد امن کے معاہدے کی پابندی کے گیا۔تاہم آنحضرت ﷺ اور اکثر صحابہ ثابت قدم رہے۔دشمن پسپا ہونے لئے آنحضرت ﷺ نے بعض قافلے قریش کے تجارتی قافلوں کی حفاظت لگا اس دوران ایک درہ جس پر پچاس تیر انداز مقرر تھے۔خالی ہو گیا اور دشمن کے لئے بھجوائے اسی طرح بعض قافلوں کو دعوت اسلام کے لئے بھجوایا گیا اور نے درے سے آکر پیچھے سے حملہ کر دیا مسلمانوں کے قدم اکھڑ نے لگے حفاظت کے لئے وہ مسلح ہو کر جاتے تھے۔یہی اس زمانے کا رواج تھا۔آنحضرت ﷺ اور چند صحابہ مقابلہ کرتے رہے۔آنحضرت ﷺ کے چہرہ الله