سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 4 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 4

3 2 خلافت کے زمانہ میں انہیں سارا عرصہ میدان جنگ میں گزارنا پڑا اور شام سے فتح کئے ہوئے علاقوں میں بذات خود تشریف لانا تاریخ اسلام کا شام کے محاذ پر انہیں کا رہائے نمایاں سرانجام دینے کی توفیق ملتی رہی۔ایک بہت اہم واقعہ ہے۔اس موقع پر حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر کو ترکی دمشق کے محاصرہ کے دوران اسلامی فوجوں کی کمان حضرت خالد بن ولید گھوڑا اور عمدہ لباس پیش کیا۔اور عرض کیا کہ وہ عمدہ لباس پہن کر معاہدہ کے کے ہاتھ میں تھی۔اس دوران انہیں حضرت عمرؓ کے ایک حکم نامے کے لئے تشریف لے چلیں۔لیکن حضرت عمرؓ نے یہ کہہ کر اس پیشکش کو قبول کرنے ذریعے اسلامی فوجوں کا با قاعدہ سپہ سالا راعظم بنا دیا گیا اس کے جلد ہی سے انکار کر دیا کہ جو عزت ہمیں اسلام کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے وہی بعد ملک شام میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان اسلام کی پہلی ہمارے لئے کافی ہے۔اس موقع پر ابوعبیدہ کے لباس اور رہن سہن میں پہلے صدی کی سب سے بڑی جنگ ہوئی جسے جنگ یرموک کہتے ہیں۔اس جیسی سادگی دیکھ کر حضرت عمرؓ نے ان کی بہت تعریف فرمائی۔جنگ میں مسلمانوں کے بہت بڑے بڑے کمانڈروں نے حصہ لیا اور ان شام کے تمام علاقوں کی فتح کے بعد عمو اس کے مقام پر حضرت ابوعبیدہ سب کے اوپر چیف کمانڈر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح تھے۔شام مشرقی نے پڑاؤ ڈالا جہاں طاعون کا مرض پھوٹ پڑا۔حضرت عمر کی طرف سے انہیں روم کا خوشنما صوبہ تھا۔ملک شام موجودہ شام، فلسطین، اردن اور لبنان پر اجازت دی گئی کہ وہ مدینہ آ جائیں۔لیکن انہوں نے اپنے فوجی ساتھیوں کو مشتمل تھا۔اور یہ سب علاقے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے ہاتھ پر فتح چھوڑ نا پسند نہ کیا اور پھر حضرت عمرؓ کے ہی مشورے سے ساتھیوں کو لے کر کھلی ہوئے ان تمام فتوحات کے باوجود ان میں کوئی غرور یا فخر پیدا نہ ہوا اور فضا میں جابیہ منتقل ہو گئے اور وہیں پر ان کی وفات ہوئی۔فاتح شام اور اسلام سادگی اور نیکی پر وہ پہلے کی طرح سے قائم رہے۔ابتدائی صحابہ میں سے کا پہلا با قاعدہ سپہ سالار ہونے اور اپنی بے شمار خوبیوں اور دیگر خدمات کی بدولت ان کا نام ہمیشہ عزت واحترام سے زندہ رہے گا۔آؤ بچو ! ! آپ کو حضرت ابو عبیدہ کی کہانی اُن کی زبانی سنائیں۔وہ اُس زمانہ میں آنحضرت علی کی عکسی تصویر تھے۔عیسائیوں کے مرکز بیت المقدس کی فتح بھی ان کے ہاتھوں پر ہوئی بیت المقدس کے تقدس کی وجہ سے عیسائیوں نے صلح کے معاہدہ کے لئے خلیفہ وقت کو بیت المقدس بلانے کا مطالبہ کیا۔حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر کی خدمت میں خود آ کر صلح کے معاہدہ پر ابتدائی حالات و قبول اسلام میرا اصل نام عامر ہے لوگ مجھے میرے بیٹے عبیدہ کی نسبت سے ابو عبیدہ دستخط کرنے کی درخواست بھجوائی جسے حضرت عمرؓ نے منظور فرمایا۔حضرت عمرؓ کا کے نام سے یاد کرتے ہیں میرے والد کا نام عبد اللہ اور دادا کا نام الجراح ہے۔