حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ — Page 8
13 12 استحکام خلافت کے لئے جد و جہد حضرت ابوبکر کی خلافت کے موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عمرؓ کو مشورہ دیا تھا کہ خلافت کا امر مدینہ میں طے ہونا چاہئے آپ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے دست راست رہے۔قاتلانہ حملے کے بعد حضرت عمرؓ نے خلافت کے لئے ۶ صحابہ السابقون الاولون کو شوری میں داخل کیا ان میں حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد الرحمن بن عوف شامل تھے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف اس شوری کے صدر تھے جنہوں نے حضرت عثمان کی خلافت کا فیصلہ کیا۔اس وقت اگر معاملہ کھلےطور پر چھوڑ دیا جا تا تو ممکن تھا فتنہ کی صورت پیدا ہو جاتی اس لئے حضرت عبد الرحمن بن عوف نے رائے عامہ کو ٹول کر اور اہل الرائے صحابہ کا مشورہ لے کر حضرت عثمان کی خلافت کا فیصلہ کیا تھا بعد میں جب فتنے اٹھے تو حضرت علیؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی وفات پر فرمایا عبدالرحمن جاؤ بے شک تم نے اچھازمانہ پایا اور فتنہ سے پہلے چل دیئے۔“ (اسد الغابه ذکر عبدالرحمن بن عوف آپ کی وفات ۳۲ ھ میں ہوئی بعض کے نزدیک ۳۵ھ میں ہوئی۔آپ کی عمر ۷۵ سال تھی۔آپ مدینہ میں فوت ہوئے۔آپ کا مزار جنت البقیع میں ہے۔اے خدا بر تربت او ابر رحمتها پیار داخلش کن از کمال فضل دربیت النعیم حضرت عبد الرحمن بن عوف کے بعض متفرق واقعات الله ہجرت مدینہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری مسلمان کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا حضرت عبد الرحمن بن عوف سعد بن الربیع انصاری کے بھائی بنے۔سعد نے اپنا سارا مال و متاع نصف گن گن کر عبدالرحمن بن عوف کے سامنے رکھ دیا اور جوش محبت میں یہاں تک کہہ دیا کہ میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں اور پھر اس کی عدت گذرنے پر تم اس کے ساتھ شادی کر لینا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ خدا یہ سب کچھ آپ کو مبارک کرے، مجھے بازار کا راستہ بتا دو۔آپ بہت سمجھدار تاجر تھے۔آپ نے تجارت کر کے بہت جلد مدینہ میں بھی نام پیدا کر لیا اور ایک نہایت امیر کبیر آدمی بن گئے آپ نے جلد ہی ایک انصاری لڑکی سے شادی کر لی۔آنحضرت نے فرمایا اب ولیمہ کی دعوت کرو خواہ صرف ایک بکری کے گوشت کی ہو۔آپ کے عقل و دانش اور اللہ پر تو کل اور اخلاص کا یہ شاندار نمونہ ہے کہ آپ کسی پر بوجھ نہیں بنے اور خود نہ صرف اپنا بوجھ اٹھایا بلکہ دوسروں کا بوجھ اٹھانے کے بھی قابل ہو گئے۔