حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ

by Other Authors

Page 9 of 11

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ — Page 9

15 ☆ 14 ☆ غزوہ احد میں آپ ان خاص صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے مشکل وقت میں آنحضرت کے انتہائی قریب رہ کر دفاع کیا۔اس موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف کو کئی زخم آئے دودانت بھی شہید ہو گئے۔پاؤں میں بھی زخم آگیا اور پاؤں میں تنگ آگئی۔تمام غزوات النبی میں آپ کی شمولیت آپ کے بے حد اخلاص پر روشن دلیل ہے۔ھ پرائی ش میں آنحضرت سے آپ کو دومتہ الجندل پر لشکر کشی کے لئے بھیجا۔ایک دفعہ آنحضرت کے وصال کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف کے سامنے افطاری کا کھانا آیا جو غالبا کسی قدر پر تکلف تھا۔اس پر انہیں احد کا زمانہ یاد آ گیا جب مسلمانوں کے پاس اپنے شہداء کو کفنانے کے لئے کپڑ ایک نہیں تھا اور وہ ان کے بدنوں کو چھپانے کے لئے گھاس کاٹ کاٹ کا ان میں لپیٹتے تھے۔اس یاد نے عبد الرحمن بن عوف کو ایسا بے چین کر دیا کہ وہ بے تاب ہو کر رونے لگ گئے اور کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے حالانکہ وہ روزے سے تھے۔“ (سیرت خاتم النبین از حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے ص۵۰۲) اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے حد مال و دولت عطا فرمایا اور آپ نے اسے خدا کی راہ میں بے دریغ خرچ بھی کیا۔ائمّم زہر سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے ایک مرتبہ چالیس ہزار دینار خیرات کئے پھر پانچ سوگھوڑے فی سبیل اللہ دے دیے پھر پانچ سوسواری کے اونٹ بھی دے دیئے۔آپ نے وفات پر جو ترکہ چھوڑا اس کے بارہ میں وصیت فرمائی کہ بدری صحابہ میں سے جو زندہ ہوں ان میں سے ہر ایک کو چار چار سو دینار دیئے جائیں۔آپ کے انتقال پر سونا اتنی مقدار میں آپ نے چھوڑا کہ وہ کلہاڑیوں سے کاٹ کاٹ کر تقسیم کیا گیا۔چار بیویاں تھیں، ہر ایک کے حصہ میں اسی اسی ہزار آیا۔آپ نے ایک ہزار اونٹ اور ایک سوگھوڑے اور تین سو بکریاں چھوڑیں۔بدری صحابہ کے علاوہ پچاس ہزار درہم آپ کے ترکہ میں سے غرباء ومساکین میں بانٹا گیا اور ایک ہزار گھوڑے فی سبیل اللہ دیے گئے۔آپ نے بڑے خلوص سے بعض احادیث کی روایت کی ہے جو آپ کی عظمت کو ظاہر کرتی ہیں۔آپ امین تھے اور آپ کی بیان کردہ احادیث میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔منجملہ اور حدیثوں کے عشرہ المبشرین کی حدیث بھی آپ نے ہی روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا