حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ

by Other Authors

Page 9 of 16

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 9

15 14 خطبہ الہامیہ یہ اعجازی نشان قادیان میں عید الاضحیہ کے دن 11 / اپریل 1900ء میں ظاہر ہوا۔اس موقعہ پر حضرت مولوی صاحب کے حصہ میں کئی سعادتیں آئیں۔ایک تو اس خطبہ کا ساتھ ساتھ لکھنا اور پھر اس کے اختتام کے بعد ترجمہ کر کے احباب کرام کے سامنے پیش فرما نالیکن اس سے بھی بڑی سعادت یہ تھی کہ اس خطبہ کی تحریک حضرت مولوی صاحب نے حضور کی خدمت اقدس میں کی تھی اور حضور نے آپ کی تجویز کو الہی تصرف سمجھ کر خطبہ الہامیہ ارشاد فرمایا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اپریل 1900ء کی ڈائری میں تحریر کرتے ہیں:۔۔۔۔آج عید کی صبح کو مولانا موصوف اندر تشریف لے گئے اور عرض کیا کہ میں آج خصوصیت کے ساتھ عرض کرنے کو آیا ہوں کہ آپ ضرور تقریر کریں خواہ چند فقرے ہی ہوں۔“ آپ نے فرمایا : ”خدا نے ہی حکم دیا ہے۔اور فرمایا کہ رات الہام ہوا ہے کہ مجمع میں کچھ عربی فقرے پڑھو۔میں کوئی اور مجمع سمجھتا تھا۔شاید یہی مجمع ہو۔غرض حضرت مولانا موصوف کی میں اب چند فقرے عربی میں سناؤں گا۔کیونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے مجمع میں کچھ عربی فقرے بولنے کا حکم دیا تھا۔پہلے میں نے خیال کیا کہ شاید کوئی اور مجمع ہوگا جس میں خدا کی بات پوری ہو۔مگر خدا تعالیٰ مولوی عبدالکریم صاحب کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے تحریک کی اور اس تحریک سے زبر دست قوت دل میں پیدا ہوئی اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ اور نشان آج پورا ہو۔حضرت مولانا عبدالکریم صاحب نے جس خوبی اور فصاحت کے ساتھ اس کا ترجمہ کیا یہ بجائے خود ایک نشان تھا۔کسی دوسری زبان سے اس کے بیان کردہ مضامین کو اپنی زبان میں ارتجالاً ادا کرنا آسان کام نہیں اور خصوصاً معارف و حقائق کا ترجمہ۔مگر مولوی صاحب نے جس صفائی کے ساتھ ترجمہ سنایا وہ گویا روح القدس کی امداد سے بول رہے تھے۔لفظی با محاورہ سلیس مسلسل جس قدر خوبیاں ایک ترجمہ میں ہونی چاہئیں وہ سب موجود تھیں۔" (الحکم قادیان 17 را پریل 1900 ص2, 8، الحکم قادیان 17 اپریل و یکم مئی 1900 ) تحریک پر دنیا کو بے نظیر نعمت ملی جو الگ رسالہ کی صورت میں شائع ہو گئی۔مینار المسیح قادیان کی بنیادی اینٹ اور ہمارا یقین ہے کہ اس خطبہ پر جس قدر برکات اور فیوض نازل ہوئے 13 مارچ 1903ء کا دن تاریخ احمدیت میں بہت اہم دن ہے۔یہ وہ مبارک دن تھا ہیں اور ہوں گے ان میں سے ایک بڑا حصہ حضرت مولانا کو ملے گا۔اس لئے جس دن سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کردہ اینٹ منارۃ اسیح کے لئے بنیاد میں کہ اصلی محرک وہی ہیں اور حضرت نے خود کئی بار ان کی تحریک کا اعتراف رکھی گئی۔بعد از نماز جمعہ یہ تقریب منعقد ہوئی۔حضرت حکیم فضل الہی صاحب اینٹ لے فرمایا ہے۔( حضرت مسیح موعود نے فرمایا : ) آئے جسے اپنی ران پر رکھ کر حضور علیہ السلام دیر تک دعائیں کرتے رہے۔پھر حکیم صاحب بی امانت لے کر مینارہ کے سنگ بنیاد کے مقام پر پہیئے۔جہاں حضرت فضل الدین صاحب