حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ

by Other Authors

Page 6 of 16

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 6

9 00 8 طرح بن پڑے آجائیں۔ادھر سے مولوی نورالدین صاحب کا خط آیا کہ حضور نے مجھے خط لکھا کہ میں ازالہ اوہام تصنیف کر رہا ہوں اور بیمار ہوں عید دیا، زائرین میں سے کن کے ساتھ مجلس مذاکرہ کی ، یا آپ کی صحت و تندرستی کے بارہ کا پیاں پڑھنی پروف دیکھنے خطوط لکھنے کی تکلیف کا متحمل نہیں ہو سکتا جس میں رپورٹس درج ہوتیں۔گویا آپ کی قادیان کی زندگی خدمت دین سے مصروف اور مقبول ہوتی۔بلکہ جہاں تک خطوط کا تعلق ہے تو یقیناً آپ نے ہزاروں خطوط کیا احمدی اور حضرت کو تکلیف بہت ہے لدھیانہ جلدی جاؤ۔اس وقت میں مدرسہ میں کیا غیر احمدی سب کو لکھے۔سینکڑوں خطوط ایسے تھے جو آپ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ مدرس تھا۔وہاں سے رخصت لے کر لدھیانہ پہنچا۔اور میں اقرار کرتا ہوں کہ السلام کی ایماء، ہدایات اور ارشادات کی تقبیل میں لکھے۔یہی وجہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معاندین و مخالفین کی طرف سے بیرنگ خطوط آئے جن میں مغلظات و جو دس پندرہ روپے ملتے تھے انہیں نقیمت سجھتا تھا اور عزم تھا کہ اختتام پر پھر ہنوز دنیا اور ہوائے دنیا سے میرا دل سیر اور نوکری سے قطعاً بیزار نہ ہوا تھا۔اور اس سلسلہ کو اختیار کرونگا۔“ دشنام دہی ہوتی ، ان میں صاف اور بر ملا طور پر مولوی صاحب کو بھی گالیاں دی ہوتیں۔(الحکم قادیان 31 /اکتوبر 1899ء) بلکہ ایک موقع پر سید نا حضرت اقدس علیہ السلام نے حضرت مولانا صاحب کو مخاطب کر کے " ” اب تو آپ بھی ہمارے ساتھ گالیوں میں شامل ہو گئے ، بڑا ثواب ہے۔الحکم قادیان 10 اکتوبر 1906 ص 10) حضرت محمد رحیم الدین صاحب موضع حبیب واله تحصیل دھام پور ضلع بجنور یوپی ، قادیان کے ابتدائی ماحول کے بارہ میں بیان کرتے ہیں: آپ نے سیالکوٹ چھوڑا تو پھر اپنی زندگی کے آخری لگ بھگ تیرہ سال حضرت مسیح فرمایا تھا: موعود علیہ السلام کے قدموں میں گزارے اور ایسے زندگی گزاری کہ ایک لمحہ کیلئے بھی امام الزمان سے جدا ہونا موت سمجھتے تھے۔جماعت احمدیہ کے ابتدائی اخبارات الحکم کے جنوری 1898ء سے دسمبر 1906 ء تک اور البدر کے 1902 سے 1906 تک کی فائلیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جو مذکورہ بالا اخبارات میں ” قادیان دارالامان کی ڈائری“ شائع ہوتی تھی اس میں اور اہم واقعات کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کے بارہ میں ضرور کوئی نہ کوئی خدمت کی خبر ہوتی تھی۔مثلاً یہ کہ آج آپ نے کس موضوع پر تقریر کی مضمون لکھا، خطوط ارسال کئے ،حضوڑ کی کتب کے پروف چیک کئے کسی فنڈ یا تحریک کے لئے اپیل کی یا کسی مقام کا سفر کیا۔کس موضوع پر خطبہ جمعہ یا خطبہ ( بیت ) مبارک جو بہت چھوٹی تھی۔۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم فرض نماز کی امامت کراتے تھے اور حضرت صاحب ان کے اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔میں اگست 1896 میں ایک ہفتہ اور فروری 1898ء میں ایک ماہ دارالامان میں مقیم رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرض نماز کی امامت کسی وقت نہیں کرائی۔مولوی عبدالکریم کی غیر حاضری میں حضرت حکیم