حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 15
27 26 نیک ان کا اچھا ہوتا ہے جو فیصلہ کر لیتے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کرنے میں خاک علیہ السلام کی صحبت میں رہنے کا کس قدر عشق و ذوق تھا ذیل کے واقعہ سے بخوبی اندازہ ہو جائیں گے۔“ لگایا جاسکتا ہے۔اخبار بدر قادیان 12 جنوری 1906 ص 3) آپ کی تصنیفات آپ کی تصنیفات میں الحق سیالکوٹ (اول) ، الحق سیالکوٹ ( دوم ) الــــــول الـفـصـيـح في اثبات حقية مثيل المسیح لیکچر گناہ لیکچر موت ، ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم ، رسالہ التبلیغ کا فاری ترجمہ، ایام الصلح فارسی ترجمہ، حضرت مسیح موعود جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے کیا اصلاح اور تجدید کی محاسن قرآن کریم، سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام، ضمیمہ واقعات صحیحہ ، اعجاز اسیح اور حضرت مسیح موعود اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی، خطبات کریمیہ ملفوظات کریم حصہ اول ، دعوۃ الندوۃ۔ندوۃ العلماء کی طرف ایک خط ، خلافت را شده حصه اول ، خلافت راشدہ حصہ دوم۔المعروف فرقان شامل ہیں قادیان سے محبت قادیان میں جو دولت ملتی ہے وہ دنیا کے کسی مقام پر آج دستیاب نہیں۔آپ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہ کر جو لازوال اور قیمتی دولت حاصل کی وہ بادشاہوں کے دربار میں بھی نہیں ملتی تھی۔اسی وجہ سے آپ نے بادشاہوں کی بڑی بڑی پیشکشوں کو بھی ٹھکرا دیا۔حضرت مولوی صاحب کو حضرت مسیح موعود امیر حبیب اللہ خان والی افغانستان نے کابل میں ایک دارالترجمہ قائم کیا۔اس میں ہندوستان کے چیدہ چیدہ علماء، ماہرین فن اور قابل لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش کی۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مخدوم الملت چونکہ عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں کے ماہر تھے اس لئے بادشاہ نے آپ کو کابل آنے کی دعوت دی اور بیش قرار معاوضہ بطور تنخواہ پیش کیا۔حضرت مولوی صاحب نے جواب دیا۔قادیان میں جو دولت ملتی ہے وہ دنیا کے کسی مقام پر آج دستیاب نہیں۔تیرہ سو برس کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنے مامور کو ہم میں بھیجا ہے۔اس کی پاک صحبت کو چھوڑ کر سونے چاندی کے سکوں کے لئے جانا مردار دنیا پر مونہہ مارنا ہے اور اعلیٰ سے ادنی کا تبادلہ ہے۔خدا کی قسم اگر دنیا کی ساری دولت میرے قدموں میں لاکر ڈھیر کر دی جائے اور اس کے بدلہ میں قادیان سے مجھے الگ ہونے کی خواہش کی جائے تو میں سونے چاندی کے اس ڈھیر پر پیشاب بھی نہ کروں“ اخبار الحکم قادیان 14 اگست 1922)