حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 14
25 24 ایک خط شامل ہونا چاہئے تھا جو بدعات میں دن رات غرق اور منشائے کتاب اللہ سے بکلی مخالف چلے ہیں۔مجھے یہ صلاح مولوی صاحب موصوف کی بہت پسند آئی اور اگرچہ میں پہلے بھی کچھ ذکر علماء ہندوستان و پنجاب اس کتاب میں لکھ آیا ہوں لیکن میں نے اتفاق رائے دوست ممدوح کے یہی قرین مصلحت سمجھا کہ ایک مستقل خط ایسے فقراء کی طرف لکھا جائے جو شرع اور دین متین سے بہت دور جا پڑے ہیں 66 آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5ص359-360) میں نے آپ کے واسطے اس قدر دعا کی جس کی حد نہیں مولوی عبد الکریم صاحب کی علالت طبع کا ذکر تھا۔حضرت ( مسیح موعود علیہ السلام) نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ: ” میں نے آپ کے واسطے اس قدر دعا کی ہے جس کی حد نہیں۔“ وہ اس سلسلہ کی محبت میں بالکل محو تھے ( ملفوظات جلد چہارم ص 254) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی وفات پر اس زبر دست تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: وہ اس سلسلہ کی محبت میں بالکل محو تھے جب اوائل میں میرے پاس آئے تھے تو سید احمد ( سرسید احمد خان ) کے معتقد تھے۔کبھی کبھی ایسے مسائل پر میری ان کی گفتگو ہوتی جو سید احمد کے غلط عقائد میں تھے اور بعض دفعہ بحث کے رنگ تک نوبت پہنچ جاتی مگر تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک دن علا نیہ کہا کہ آپ گواہ رہیں کہ آج میں نے سب باتیں چھوڑ دیں اس کے بعد وہ ہماری صحبت میں ایسے محو ہو گئے تھے کہ اگر ہم دن کو کہتے کہ ستارے ہیں اور رات کو کہتے کہ سورج ہے تو وہ کبھی انکار کرنے والے نہ تھے۔ان کو ہمارے ساتھ ایک پورا اتحاد اور پوری موافقت حاصل تھی کسی امر میں وہ ہمارے ساتھ خلاف رائے کرنا کفر سمجھتے تھے۔ان کو میرے ساتھ نہایت درجہ کی محبت تھی اور وہ ( رفقاء) الصفہ میں سے ہو گئے تھے جنکی تعریف خدا تعالیٰ نے پہلے سے ہی اپنی وحی میں کی تھی۔ان کی عمر ایک معصومیت میں گزاری تھی اور دنیا کی عیش کا کوئی حصہ انہوں نے نہیں لیا تھا۔نوکری بھی انہوں نے اسی واسطے چھوڑی تھی کہ اس میں دین کی ہتک ہوتی ہے۔پچھلے دنوں ان کو ایک نوکری 200 روپے ماہوار کی ملتی تھی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔خاکساری کے ساتھ ہی انہوں اپنی زندگی گزار دی۔صرف عربی کتابوں کے دیکھنے کا شوق رکھتے تھے۔(دین حق ) پر جو اندرونی اور بیرونی حملے ہوتے تھے ان کے دفاع میں اپنی عمر بسر کر دی۔باوجود اس قدر بیماری اور ضعف کے ہمیشہ ان کی قلم چلتی رہتی تھی۔ان کے متعلق ایک خاص الہام بھی تھا ( مومنوں ) کا لیڈر“۔غرض میں جانتا ہوں کہ ان کا خاتمہ قابل رشک ہوا۔کیونکہ ان کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں تھی۔جس کے ساتھ دنیا کی ملونی ہوتی ہے اس کا خاتمہ اچھا نہیں ہوتا۔انجام