حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 4
5 4 کے نام سے مشہور تھیں۔حضرت مولوی صاحب کی ان سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔حضرت مولوی صاحب کی دوسری شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عائشہ بیگم صاحبہ بنت حضرت منشی شادی خان صاحب سیالکوٹی سے کروائی۔آپ کی دونوں بیویاں قادیان میں ہی آپ کے ساتھ رہیں۔آپ کی دوسری بیگم سے بھی کوئی اولاد نہ ہوئی۔سرسید احمد خان کے زیر اثر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی جوانی کی عمر میں 1875ء کے قریب سرسید احمد خان کے معتقد ہو گئے۔اور یہ تعلقات 22 سال تک جاری رہے۔آپ نے خود اس بات کا اظہار کیا کہ سید صاحب کی کوئی تحریر نہیں جو میری نظر سے نہ گزری ہو۔لیکن جب حضرت اقدس سے ملاقات ہوئی اور ان کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا تو آپ ان کے خیالات ترک کر کے آپ کی غلامی میں آگئے۔حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب بھیروی سے تعارف حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کا حضرت حکیم مولا نا نور الدین صاحب ” مجھ پر ایک وقت آیا کہ میں علم حدیث سے نا آشنا تھا اور اس طرف توجہ کرنی پسند نہ کرتا تھا۔میرے مخدوم و استاذ مولوی صاحب جو اس پر حلاوت علم کے ذوق سے حظ وافر رکھتے تھے۔مجھے ہمیشہ اس کی طرف توجہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔آخر 1886ء میں جب کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی مشیت نے کشمیر میں چھ ماہ کے لئے ایک جگہ رکھا اور مولوی صاحب نے بخاری شریف مجھے سنائی یا یوں کہو کہ میں نے اُن سے سنی۔اس وقت اس مبارک کی برکات مجھ پر منکشف ہوئیں اور اب تو میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ جو کوئی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صورت دیکھنا چاہے وہ حدیث پڑھے۔قرآن شریف پڑھنے کے بعد سعادت مند وہ ہے جو حدیث پڑھتا ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کی صحبت سے یہ فائدہ ہوا کہ میں اس قسم کی خوبیوں اور معارف سے واقف ہوا۔بدر قادیان 18 ستمبر 1905 ص 3) وطن مالوف سے محبت کرنا انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔حضرت مولوی صاحب (خلیفہ اسیح الاول) سے تعارف 1880ء سے پہلے کا ہے جو آپ کی وفات تک قائم رہا۔سیالکوٹ سے متعد دمرتبہ کشمیر کے لئے عازم سفر ہوئے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا آپ سید نا حضرت حکیم نورالدین صاحب بھیروی کے عزیز ترین شاگردوں اور جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں داخل ہو کر قادیان نہیں بیٹھ گئے۔دوستوں میں سے تھے۔مسیح زمان سے تعلق آپ ملازمت کے علاوہ حضرت حکیم نورالدین صاحب بھیروی سے ملاقات کے پیش نظر جموں و کشمیر جایا کرتے تھے اور انہی ایام میں حضرت مولانا صاحب نے آپ سے قرآن وحدیث بھی پڑھے۔آپ فرماتے ہیں: حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی سے جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا دوستانہ ہوا تو اس کے کچھ عرصہ بعد ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک قسم کا