حیات طیبہ — Page 68
68 اس کی طرف سے بہت اصرار کی درخواست ہے اور ہے بھی وہ اچھا آدمی۔اسے رشتہ دے دو۔میں نے اس کی ذات وغیرہ دریافت کی تو مجھے شرح صدر نہ ہوا اور میں نے انکار کیا۔اس پر میر صاحب نے کچھ ناراض ہو کر کہا کہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہوگئی ہے۔کیا ساری عمر ا سے یونہی بٹھا چھوڑو گے۔میں نے جواب دیا کہ ان لوگوں سے تو پھر غلام احمد ہی ہزار درجہ اچھا ہے۔میر صاحب نے جھٹ ایک خط نکال کر سامنے رکھ دیا کہ لو پھر مرزا غلام احمد کا بھی خط آیا ہوا ہے جو کچھ بھی ہو ہمیں اب جلد فیصلہ کرنا چاہئے۔میں نے کہا۔اچھا۔پھر غلام احمد کولکھ دو۔“ اس پر حضرت میر صاحب نے اسی وقت قلم دوات لے کر منظوری کی اطلاع دیدی۔حضرت میر صاحب کا خط موصول ہونے کے آٹھ دن بعد حضرت اقدس اپنے خادم حضرت حافظ حامد علی ، لالہ ملا وامل اور ایک دو اور آدمیوں کو ساتھ لے کر دہلی پہنچ گئے۔حضرت میر صاحب کی برادری کے لوگوں کو جب علم ہوا تو وہ بہت ناراض ہوئے کہ ایک بوڑھے شخص کو اور پھر پنجابی کو رشتہ دیدیا۔حضرت اقدس اپنے ساتھ کوئی زیور اور کپڑا نہیں لے گئے تھے۔صرف اڑھائی سو روپیہ نقد تھا۔اس پر بھی رشتہ داروں نے طعن کیا کہ اچھا نکاح کیا ہے نہ کوئی زیور ہے نہ کپڑا۔الغرض ۱۷ نومبر ۱۸۸۴ء کو خواجہ میر در درحمہ اللہ علیہ کی مسجد میں بین العصر والمغر ب گیارہ سور و پیر مہر پر اس مبارک نکاح کا اعلان مولوی سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے کیا۔حضرت میر صاحب کے رشتہ دار تو دانت پیس کر رہ گئے حضرت میر صاحب نے رخصتانہ دہلی میں ہی نکاح کے بعد دیدیا تھا۔دوسرے دن حضرت اقدس عازم قادیان ہوئے اور اسطرح سے اس مبارک شادی کا کام انجام پذیر ہوا۔فالحمد لله على ذلك۔سُرخی کے چھینٹوں کا نشان۔۱۰؍ جولائی ۱۸۸۵ء ۱۰ جولائی ۱۸۸۵ء کو وہ عجیب وغریب نشان ظاہر ہوا جسے سُرخی کے چھینٹوں والا نشان کہا جاتا ہے اور تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ۲۷ / رمضان المبارک کو جمعہ کے روز فجر کی نماز پڑھ کر آپ حسب معمول آرام فرمانے کے لئے اس حجرہ میں جا کر چار پائی پر لیٹ گئے جو مسجد مبارک کے ساتھ مشرق کی طرف واقعہ ہے۔حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کا بیان ہے کہ میں اس وقت حضور کے پاؤں دبانے لگ گیا حتی کہ آفتاب نکل آیا اور حجرہ میں بھی روشنی ہو گئی سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ ۱۱۰، ۱۱۱ ه حیات احمد جلد دوم نمبر سوم صفحه ۹۶