حیات طیبہ

by Other Authors

Page 62 of 492

حیات طیبہ — Page 62

62 ۱۸۸۲ ء کا واقعہ ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں: ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنے یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں۔یعنی ارادہ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے۔لیکن ہنوز ملا ءاعلیٰ پر شخص میسی کے تعین ظاہر نہیں ہوئی۔‘1 اس کے اگلے صفحہ پر فرماتے ہیں: اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک نمی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے کہا هذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُوْلَ اللهِ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔انہی ایام میں حضور نے ایک رویا دیکھا کہ : ایک رات میں کچھ لکھ رہا تھا کہ اسی اثناء میں مجھے نیند آگئی اور میں سو گیا۔اس وقت میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ کا چہرہ بدر تام کی طرح درخشاں تھا۔آپ میرے قریب ہوئے اور میں نے ایسا محسوس کیا کہ آپ مجھ سے معانقہ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ آپ نے مجھ سے معانقہ کیا اور میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ سے نور کی کرنیں نمودار ہوئیں اور میرے اندر داخل ہوگئیں میں ان انوار کو ظاہری روشنی کی طرح پا تا تھا اور یقینی طور پر سمجھتا تھا کہ میں انہیں محض روحانی آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ ظاہری آنکھوں سے بھی دیکھ رہا ہوں اور اس معانقہ کے بعد نہ ہی میں نے یہ محسوس کیا کہ آپ مجھ سے الگ ہوئے ہیں اور نہ ہی یہ سمجھا کہ آپ تشریف لے گئے ہیں اس کے بعد مجھ پر الہام الہی کے دروازے کھول دیئے گئے اور میرے رب نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔سے يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيكَ مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَبِّي الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْذِرَ ابَاءَهُمْ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلَ الْمُجْرِمِينَ۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَآنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ - یعنی اسے احمد! اللہ نے تجھے برکت دی ہے۔پس جو وار تو نے دین کی خدمت کے لئے مخالفوں پر لے براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۵۰۲ ۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۵۰۳ سی ترجمه از آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۵۰ سے براہین احمدیہ حصہ سوم صفحه ۲۳۸ حاشیه در حاشیہ نمبرا