حیات طیبہ — Page 53
53 کا چرچا ہوا لیکن پنجاب کے بعض شہروں لاہور، امرتسر اور راولپنڈی میں تو اس کی مضبوط شاخیں قائم ہو گئیں۔اس نئی تحریک پر ابھی تھوڑا عرصہ ہی گذرا تھا کہ حضرت اقدس نے اس کا مقابلہ شروع کر دیا اور آپ نے اس کے سر پر ایسی کاری ضربیں لگانا شروع کر دیں کہ آریہ سماج کا بانی اور اس کے پیر و بوکھلا گئے۔تفصیل اس کی یوں ہے کہ ۷/ دسمبر ۱۸۷۷ء کے وکیل ہندوستان وغیرہ اخبارات میں پنڈت دیانند صاحب بانی آریہ سماج نے روح کے متعلق اپنا یہ عقیدہ شائع کیا کہ ارواح بے انت ہیں اور اس کثرت سے ہیں کہ پرمیشر کو بھی ان کی تعداد معلوم نہیں۔اس واسطے ہمیشہ مکتی پاتے رہتے ہیں اور پاتے رہیں گے مگر کبھی ختم نہیں ہو دینگے۔“ اس باطل عقیدے کا شائع ہونا ہی تھا کہ حضرت اقدس نے اس کی تردید میں دلائل کا ایک انبار لگا دیا۔آریوں کی طرف سے یکے بعد دیگرے با با نرائن سنگھ سیکرٹری آریہ سماج امرتسر، پنڈت کھڑک سنگھ ایک پر جوش ممبر آریہ سماج امرتسر آپ کے مقابلہ کے لئے میدان میں اتر آئے مگر دونوں کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ پھر مرتے دم تک انہوں نے اُٹھنے کا نام نہ لیا۔پنڈت کھڑک سنگھ تو ویدوں سے ایسے بدظن ہوئے کہ آریہ سماج کو چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی اور مختلف اخبارات میں صاف لکھا کہ وید علوم الہی اور راستی سے بے نصیب ہیں اس لئے وہ خدا کا کلام نہیں ہو سکتے۔وغیرہ وغیرہ کے اور دوسرا آپ کے مقابلہ میں ایسادم بخود ہوا کہ خود ہندو علماء نے اس کے جوابات کومحض ژاثر خائی قرار دیا۔اوروں کو تو جانے دیجئے خود پنڈت دیانند صاحب پر حضرت کے مضامین کا ایسا اثر پڑا کہ ان کے چھکے چھوٹ گئے حضرت اقدس ان کو بار بار مقابلہ کے لئے للکارتے تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو پیچھا ہی نہیں چھوڑتے تو تین آریہ سماجیوں کو آپ کی خدمت میں یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اگر ارواح حقیقت میں بے انت نہیں ہیں لیکن تناسخ اس طرح پر ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ جب سب ارواح مکتی پا جاتی ہیں تو پھر بوقت ضرورت مکتی سے باہر نکالی جاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ پنڈت دیانند صاحب کی یہ کھلی شکست تھی اور حضرت اقدس کی نمایاں فتح! جب لوگوں میں اس مقابلہ کا خوب چرچا ہوا تو پنڈت جی نے اپنی خفت کو مٹانے کے لئے آپ کو مباحثہ کا چیلنج دیا۔جسے آپ نے فوراً منظور فرمالیا لیکن پنڈت جی پھر خود ہی مباحثہ سے فرار اختیار کر گئے۔اس مقابلہ سے فرار کی ایک مصنوعی وجہ بیان کرتے ہوئے ایک آریہ سماجی مہاشہ لکھتے ہیں: آریہ سماج کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کو موقع مل گیا۔اس نے آریہ سماج کے خلاف ”سفیر ہند امرتسر میں مضامین کا ایک لمبا سلسلہ شروع کیا اور اس میں سوامی اه شنبه حق صفحہ ۲۴ طبع اول۔تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۷۶