حیات طیبہ

by Other Authors

Page 54 of 492

حیات طیبہ — Page 54

54 دیا نند جی مہاراج کو بھی چیلنج دیا چونکہ سوامی دیانند جی مہاراج ان دنوں راجستھان کا دورہ کر رہے تھے اس لئے انہوں نے بختاور سنگھ اور منشی اندر من مراد آبادی سے کہا کہ وہ ان کا چیلنج منظور کر لیں لیکن افسوس ہے کہ انہی ایام میں بعض وجوہ کی بناء پر سوامی جی نے اندر من مراد آبادی کو آریہ سماج سے نکال دیا۔اس لئے مناظرہ نہ ہو ( حضرت ) مرزا غلام احمد ( صاحب ) نے اس درگھٹنا سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا اور آریوں کے خلاف ایسا زہریلا لٹریچر لکھا کہ جس نے مسلمانوں کے دلوں میں آریہ دھرم کے متعلق نفرت پیدا کر دی۔1 بر ہمو سماجی تحریک کی ناکامی اسلام کے خلاف دوسری زبردست تحریک بر ہمو سماج کی تھی لیکن آپ نے اس پر بھی اعتراضات کی ایسی بوچھاڑ کی کہ اس کو بھی کچھ بن نہ پڑی۔چنانچہ ایک برہمو سماجی لیڈر لکھتے ہیں:۔وو راجہ رام موہن رائے کی زبر دست شخصیت نے انگلستان اور امریکہ میں برہمو سماج کو یونیٹیرین چرچ کی شکل میں قائم کیا، لیکن افسوس ہے کہ بھارت کے مسلمانوں پر قادیانی سمپر دائے (فرقہ ) کی وجہ سے بہت بڑا پر بھاو پڑا اور مسلمانوں میں سے شردھالو جو برہمو سماج کے نیموں کی وجہ سے پر بھاوت ہو چکے تھے۔قریبا قریبا پیچھے ہٹ گئے۔“ ہے ایک برہمو سما جی لیڈر دیوندرناتھ سہائے لکھتے ہیں: بر ہموسماج کی تحریک ایک زبر دست طوفان کی طرح اٹھی اور آنا فانا نہ صرف ہندوستان بلکہ غیر ممالک میں بھی اس کی شاخیں قائم ہو گئیں۔بھارت میں نہ صرف ہندو اور سکھ ہی اس سے متاثر ہوئے بلکہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی۔روزانہ بیسیوں مسلمان برہمو سماج میں پرویش یعنی داخل ہوئے۔اس کی دیکھشا لیتے ہی معلوم ہے کہ بنگال کے بڑے بڑے مسلم خاندان برہمو سماج کے ساتھ نہ صرف سہمت تھے بلکہ اس کے با قاعدہ ممبر تھے، لیکن عین انہی دنوں میں مرزا غلام احمد قادیانی نے جو مسلمانوں کے ایک بڑے عالم تھے۔ہندوؤں اور عیسائیوں کے خلاف کتابیں لکھیں اور ان کو مناظرے کے لئے چیلنج کیا۔افسوس ہے کہ برہمو سماج کے کسی ودوان نے اس چیلنج کی طرف توجہ نہیں کی جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ مسلمان جو کہ برہمو سماج کی تعلیم سے متاثر تھے نہ صرف پیچھے ہٹ گئے بلکہ با قاعدہ برہمو سماج میں داخل ل کتاب " آریہ سماج اور پر چار کے سادھنا صفحہ ۱۲ مؤلفہ پنڈت دیودت سے ہند و تو صفحہ ۹۸۲ مصنفہ را مد اس گوڑ ( ہندی سے ترجمہ )