حیات طیبہ — Page 29
29 تھے کہ انسان کو خود سعی اور محنت کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوْ فِيْنَا لنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ے مولوی محبوب عالم صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔دینیات میں مرزا صاحب کی سبقت اور پیش روی تو عیاں ہے مگر ظاہری جسمانی دوڑ میں بھی آپ کی سبقت اس وقت کے حاضرین پر صاف ثابت ہو چکی تھی۔اس کا مفصل حال یوں ہے کہ ایک دفعہ کچہری برخواست ہونے کے بعد جب اہل کار گھروں کو واپس ہونے لگے تو اتفاقا تیز دوڑنے اور مسابقت کا ذکر شروع ہو گیا۔ہر ایک نے دعویٰ کیا کہ میں بہت دوڑ سکتا ہوں آخر ایک شخص بلا سنگھ نام نے کہا کہ میں سب سے دوڑنے میں سبقت لے جاتا ہوں۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ میرے ساتھ دوڑ و۔تو ثابت ہو جائے گا کہ کون بہت دوڑتا ہے۔آخر شیخ الہ داد صاحب منصف مقرر ہوئے اور یہ امرقرار پایا کہ یہاں سے شروع کر کے اس پل تک جو کچہری کی سڑک اور شہر میں حد فاصل ہے ننگے پاؤں دوڑو جو تیاں ایک آدمی نے اُٹھا لیں اور پہلے ایک شخص اس پل پر بھیجا گیا۔تا کہ وہ شہادت دے کہ کون سبقت لے گیا اور پہلے پل پر پہنچا۔مرزا صاحب اور بلا سنگھ ایک ہی وقت دوڑے اور باقی آدمی معمولی رفتار سے پیچھے روانہ ہوئے جب پل پر پہنچے تو ثابت ہوا کہ حضرت مرزا صاحب سبقت لے گئے اور بلا سنگھ پیچھے رہ گیا۔ہے خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس قسم کا غیرت دینی سے متعلق ایک واقعہ حضرت مولوی اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کو بھی پیش آیا تھا جو ایک سکھ سے تیرا کی کے مقابلہ کی بابت ہے کہ آپ نے اس کو تیرنے میں شکست دی تھی۔منشی سراج الدین صاحب کی شہادت ہے کہ مشہور مسلم لیڈر مولوی ظفر علی خاں ایڈیٹر زمیندار کے والد ماجد منشی سراج الدین صاحب مرحوم کی شہادت ”مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ ء یا لاء کے کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محزر تھے۔۔۔۔۔۔اور ہم س چشمد ید شہادت سے کہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔کاروبار ملازمت کے بعد ان کا ل العنكبوت: ۷۰ سے سیرۃ المہدی اول طبع ثانی صفحه ۲۷۲،۲۷۰ سے سن اور عمر کی تعیین میں منشی صاحب کی یاد نے وفا نہیں کی اصل کتاب میں یہ واقعہ ۱۸۶۴ تا ۸۶۸! کا ہے۔