حیات طیبہ — Page 416
416 ڈوئی نے جب بی تار پڑھا۔تو اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔صحت پہلے ہی برباد ہو چکی تھی۔رہی سہی عزت بھی خاک میں ملتی نظر آئی۔فوڑا رختِ سفر باندھ کر شکا گوکو روانہ ہو گیا۔شکا گو پہنچ کر اس نے اسی روپنے کے بل پر جو وہ لوگوں کا غبن کر چکا تھا۔مسٹر والوا کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لئے قانون دانوں کی خدمات حاصل کیں۔شکاگو کی ایک عدالت میں دو ہفتے تک یہ مقدمہ چلتا رہا۔عدالت نے ڈوئی کو صیحون کی جائیداد واپس کرنے کی بجائے اس پر ایک ریسیور مقرر کر دیا اور ہدایت کی کہ صیحونی چرچ کے ممبر آراء شماری کے ذریعہ اپنا یا لیڈر منتخب کرلیں۔۱۸ ستمبر کو یہ انتخاب ہوا۔جس میں والوا، ڈوئی کے صرف ایک سو ووٹوں کے مقابلہ میں ہزاروں ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوا۔ڈوئی کا انجام اب مسٹر ڈوئی کا انجام سنیے۔اس کا ایک عقیدت مند مسٹر لنڈ زے لکھتا ہے کہ ان دنوں کوئی بیماری کی قسم ایسی نہ تھی جو ڈوئی کو لاحق نہیں تھی۔اس کی رہی سہی طاقت بھی جلد جلد کم ہورہی تھی بیماری کے دنوں میں صرف دو تنخواہ دار حبشی اس کی دیکھ بھال کرتے تھے اور اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اُٹھا کر لے جاتے تھے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ اس کا مفلوج اور بے جس جسم بھاری پتھر کی طرح ان کے ہاتھوں سے گر جاتا اور ڈوئی اس طرح سے زمین پر گر جاتا جیسے ایک بے جان پتھر کسی کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا ہو۔ڈوئی اس قسم کی ہزاروں مصیبتیں سہتا ہوا آخر ۹ / مارچ ۱۹۰۷ ء کو اس جہان سے رخصت ہوا۔شہر اس کا تباہ ہو گیا۔بیوی بچے اس کے جُدا ہو گئے۔حتی کہ اس کے جنازہ میں بھی شامل نہیں ہوئے۔صرف چند آدمیوں نے اس کے کفن دفن میں شرکت کی۔غرض کہ اُس نے اپنی زندگی میں ہی اپنے سارے پروگرام کی ناکامی کا اچھی طرح سے ملاحظہ کر لیا۔وہ سمجھا تھا کہ لوگوں سے قرضے حاصل کر کے اتنے بڑے شہر کا آباد کر لینا آسان امر ہے مگر یہ اس کا قیاس غلط نکلا۔اس نے نبوت کا دعویٰ سہل سمجھا تھا۔مگر اسے اس معاملہ میں بھی سخت ناکامی ہوئی۔پھر جبکہ وہ جمیکا میں تھا۔اس کے گھر سے شراب کی بوتلیں اور کنواری لڑکیوں کے ساتھ عاشقانہ رنگ کی خط و کتابت برآمد ہوئی۔حالانکہ وہ اُن باتوں سے لوگوں کو منع کیا کرتا تھا۔وہ دوسری شادی کے لئے بالکل تیار تھا حالانکہ یہ امر موجودہ عیسائیت کی رُوح کے سراسر خلاف تھا۔غرضیکہ ہر طرف سے اُسے ذلت نصیب ہوئی۔سچ ہے کہ جھوٹا آدمی کبھی بھی اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔حضرت اقدس کو اس کی موت سے دو ہفتے پیشتر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی فتح عظیم کی اطلاع مل چکی تھی۔چنانچہ آپ نے ایک رسالہ کے ٹائیٹل پیج پر جو ان دنوں آپ لکھ رہے تھے۔یعنی ” قادیان کے آریہ اور ہم یہ