حیات طیبہ

by Other Authors

Page 407 of 492

حیات طیبہ — Page 407

407 میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اُٹھا لے۔یا کسی اور سخت آفت میں جوموت کے برابر ہو۔مبتلا کر۔اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین۔رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ۔آمین بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں۔اس کے نیچے لکھ دیں۔اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ الراقم : عبد اللہ الصمد میرزا غلام احمد مسیح موعود عافاه الله واید - مرقومه ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ء یکم ربیع الاول ۱۳۲۵ھ حضرت اقدس کی یہ دعائے مباہلہ شائع ہونے کے بعد تقاضائے انصاف اور تقاضائے شرم وحیا یہ تھا۔کہ وہ بھی اپنی دُعائے مباہلہ اس کے نیچے شامل کر کے اپنے اخبار میں شائع کر دیتے اور جس طرح حضرت اقدس نے فیصلہ خدا پر چھوڑا تھا۔مولوی صاحب بھی فیصلہ خدا پر چھوڑتے لیکن ان کو یہ ہمت کہاں ہو سکتی تھی۔جو دورنگی کا طریقہ وہ ابتداء سے برتتے چلے آرہے تھے۔وہی انہوں نے اب بھی برتا اور حضرت اقدس کی تحریر اپنے اخبار ۲۶ ۱ اپریل ۱۹۰۷ء میں نقل کر کے اُس کے نیچے سب سے پہلے تو اپنے نائب ایڈیٹر سے یہ کھوایا کہ: آپ اس دعوی میں قرآن شریف کے صریح خلاف کہہ رہے ہیں۔قرآن تو کہتا ہے کہ بدکاروں کو خدا کی طرف سے مہلت ملتی ہے۔سُنو امن كَانَ فِي الضَّللَةِ فَلْيَمْدُ دُلَهُ الرَّحْمَنُ مَدًّا ( ۱۶ ۸۴) وَإِثْمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا اثْما (پ ۹۴۴) اور وَيَمُدُّ هُمْ فِي طُغْيَانِهِمُ يَعْمَهُونَ (پ (۲۶) آیات تمہارے اس دجل کی تکذیب کرتی ہیں۔اور سُنو ! بَلْ مَتَّعْنَا هَوَلَاء وَابَاءَهُمْ حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُبُرُ ( ع) جن کے صاف یہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے دغا باز۔مفسد اور نا فرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی بڑے کام کر لیں۔پھر تم کیسے من گھڑت اُصول بتلاتے ہو کہ ایسے لوگوں کو بہت عمر نہیں ملتی۔کیوں نہ ہو دعوی تو مسیح کرشن اور محمد احمد بلکہ خدائی کا ہے اور قرآن میں یہ لیاقت؟ ذلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْم - نائب ایڈیٹر اور اس تحریر کے متعلق اہلحدیث ۳۱ جولائی ۱۹۰۷ ء میں لکھا کہ ”میں اس کو صحیح جانتا ہوں۔‘ بحالیکہ نائب ایڈیٹر کی یہ تحریر دروغ گوئی اور مغالطہ دہی کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔کیونکہ ان آیات میں تو مفتری علی اللہ کے لمبی عمر پانے کا ذکر نہیں بلکہ ان کے علاوہ جو جھوٹے اور کاذب ہیں ان کا ذکر ہے اور حضرت اقدس نے مفتری علی