حیات طیبہ — Page 21
21 اور اکثر کو ایسا پایا کہ ان کی تمام دلی خواہشیں مال و متاع تک خواہ حلال کی وجہ سے ہوں یا حرام کے ذریعہ سے محدود تھیں اور بہتوں کی دن رات کوششیں صرف اس مختصر زندگی کی دنیوی ترقی کے لئے مصروف پائیں۔میں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم ایسے لوگ پائے کہ جو محض خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے اخلاق فاضلہ، حلم وکرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردی خلق اور پاک باطنی اور اکل حلال اور صدق مقال اور پر ہیز گاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں بلکہ بہتوں کو تکبر اور بدچلنی اور لا پرواہی دین اور طرح طرح کے اخلاق رذیلہ میں شیطان کے بھائی پایا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ ہر ایک قسم اور ہر ایک نوع کے انسانوں کا مجھے تجربہ حاصل ہو اس لئے ہر ایک صحبت میں مجھے رہنا پڑا۔اے ملازمت قید خانہ ہے چنانچہ سیالکوٹ کی ملازمت کے دوران میں ایک مرتبہ آپ کی والدہ محترمہ نے قادیان کے ایک حجام حیات نامی کے ذریعہ آپ کو چار جوڑے کپڑوں کے بھجوائے۔آپ کی فیاض طبیعت نے ان جوڑوں میں سے ایک جوڑا اس حجام کے حوالہ کر دیا حالانکہ وہ خاص اہتمام سے آپ ہی کے لئے تیار کروائے گئے تھے اس حجام نے برسبیل تذکرہ آپ سے ملازمت کے متعلق عرض کیا کہ کیا آپ کو یہ ملازمت پسند ہے؟ فرمایا: قید خانہ ہی ہے۔“ سے حفاظت الہی کا معجزانہ واقعہ سیالکوٹ تشریف لے جانے پر سب سے پہلے آپ کو محلہ جھنڈانوالہ میں ایک چو بارے میں رہنا پڑا۔اس چوبارے کے گرنے اور معجزانہ طور پر آپ کے طفیل اس کے اندر کے تمام افراد کے محفوظ رہنے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :۔ایک رات میں ایک مکان کی دوسری منزل پر سویا ہوا تھا اور اسی کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ یا سولہ آدمی اور بھی تھے۔رات کے وقت شہتیر میں ٹک ٹک کی آواز آئی۔میں نے آدمیوں کو جگایا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتا ہے یہاں سے نکل جانا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ کوئی چوہا ہوگا خوف کی بات نہیں اور یہ کہہ کر سو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر ویسی آواز آئی۔تب میں نے اُن کو دوبارہ کتاب البریہ صفحہ ۱۵۳ و ۱۵۴ طبع دوم سے حیات النبی جلد اول نمبر دوم صفحه ۱۷۰