حیات طیبہ

by Other Authors

Page 389 of 492

حیات طیبہ — Page 389

389 بالکل خلاف ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ ء کو فوت ہوئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون اور اس طرح ڈاکٹر اصاحب کا اپنی پیشگوئی میں کاذب نکلنا روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو گیا۔اس کے مقابل میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کا حال سنئیے۔انہوں نے ۱/۳۰اکتوبر ۱۹۰۶ ء کو اپنا ایک الہام شائع کیا تھا۔”مرزا پھیپھڑے کے مرض سے ہلاک ہو گیا۔“ مگر وہ خود پھیپھڑے کے مرض سے ہلاک ہوئے پھر انہوں نے اپنے متعلق یہ الہام شائع کیا تھاYou will succeed یعنی تم کامیاب ہو جاؤ گے اور حضرت اقدس کے متعلق یہ پیشگوئی کی تھی کہ مرزا کی جڑ بنیاداً کھڑ جائے گی۔مگر اللہ تعالیٰ نے اُن کی ایسی جڑ اکھاڑی کہ ان کا نام ونشان مٹ گیا۔مگر حضرت اقدس کو اُس نے ایسی برکت دی کہ آج روئے زمین کا کوئی قابل ذکر خطہ ایسا نہیں جہاں آپ کے خدام خدمتِ اسلام بجالانے میں مصروف نہ ہوں۔فالحمد للہ علی ذلک۔نکاح حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ۱۵/ نومبر ۱۹۰۶ ء مطابق ۲۷ / رمضان المبارک ۱۳۲۴ ۱۵/ نومبر ۱۹۰۶ ء مطابق ۲۷ / رمضان المبارک ۱۳۲۴ھ کو حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب سلمہ رتبہ کا نکاح حضرت نواب محمد علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ کی دختر نیک اختر محترمہ زینب بیگم صاحبہ کے ساتھ ایک ہزار روپیہ مہر پر ہوا۔حضرت مولانا نورالدین صاحب نے حضرت اقدس کی موجودگی میں نئے مہمان خانہ کے او پر دار البرکات کے صحن میں اس نکاح کا اعلان فرمایا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی جلالتِ شان کے متعلق جو الہامات حضرت اقدس کو ہو چکے ہیں۔ان کو ہم ان کی پیدائش کے ذکر کیساتھ درج کر چکے ہیں۔حضرت اقدس یہ چاہتے تھے کہ محترمہ زینب بیگم صاحبہ کا رخصتانہ جلد ہو جائے تا موصوفہ کے پاس ہونے سے ان کے لئے دُعا کا موقعہ مل جائے۔مگر حضرت نواب صاحب اس معاملہ میں جلد تیاری نہ کر سکے اور اس طرح یہ رخصتانہ حضرت اقدس کی زندگی میں نہ ہوسکا۔بلکہ حضور کے وصال کے بعد 9 رمئی ۱۹۰۹ء کو ہوا۔رخصتانہ کی تقریب نہایت سادگی سے عمل میں آئی۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں۔کہ بوز ینب بیگم صاحبہ کا رخصتانہ نہایت سادگی سے ہمارے دار مسیح سے ملحق مکان سے عمل میں آیا۔حضرت اماں جان نے سامان کپڑا از یور وغیرہ ہمارے ہاں بھجوا دیا تھا۔اور چونکہ نواب صاحب کا منشاء تھا کہ حضرت فاطمہ کی طرح رخصتانہ ہو۔سو جب دُلہن تیار ہوگئی۔تو نواب صاحب نے پاس بٹھا کر نصائح کیں اور پھر مجھے کہا کہ حضرت اماں جان کی طرف چھوڑ آؤں۔سیدہ ام ناصر صاحبہ ے اعلان الحق صفحہ ۷