حیات طیبہ — Page 386
386 کرنا معصیت اور موجب دخول جہنم ہے اور اس مقام میں جس طرح خدا کی اطاعت کے لئے حکم فرماتا ہے۔ایسا ہی رسول کی اطاعت کے لئے حکم فرماتا ہے سو جو شخص اُس کے حکم سے منہ پھیرتا ہے وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔جس کی سزا جہنم ہے۔“ ۲ - يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ سَمِيعٌ عليم۔(سورۃ الحجرات آیت:۲) ترجمہ: اے ایمان والو۔خدا اور رسول کے حکم سے بڑھ کر کوئی بات نہ کرو۔یعنی ٹھیک ٹھیک احکام خدا اور رسول پر چلو اور نافرمانی میں خدا سے ڈرو۔خدا سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔“ اب ظاہر ہے کہ جو شخص محض اپنی خشک تو حید پر بھروسہ کر کے ( جو دراصل وہ تو حید بھی نہیں ) رسول سے اپنے تئیں مستغنی سمجھتا ہے اور رسول سے قطع تعلق کرتا ہے اور اس سے بالکل اپنے تئیں علیحدہ کر دیتا ہے اور گستاخی سے قدم آگے رکھتا ہے وہ خدا کا نافرمان ہے اور نجات سے بے نصیب۔٣- كُلَّمَا الْقِي فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرُ - قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَ نَا نذِيرٌ فَكَذَّبُنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللهُ مِن شیعی۔(سورۃ الملک آیت: ۹-۱۰) ترجمہ: اور جب دوزخ میں کوئی فوج کافروں کی پڑے گی۔تو جو فرشتے دوزخ پر مقرر ہیں وہ دوزخیوں کو کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی نذیر نہیں آیا تھا۔وہ کہیں گے کہ ہاں آیا تو تھا مگر ہم نے اس کی تکذیب کی اور ہم نے کہا کہ خدا نے کچھ نہیں اُتارا۔“ 66 اب دیکھو۔ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دوزخی دوزخ میں اس لئے پڑیں گے کہ سے وہ وقت کے نبیوں کو قبول نہیں کریں گے۔“ - إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوْا بِاللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا (سورة الحجرات:۱۲) ترجمہ: سوا اس کے نہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان لائے۔پھر بعد اس کے ایمان پر قائم رہے اور شکوک وشبہات میں نہیں پڑے۔“ دیکھو ان آیات میں خدا تعالیٰ نے حصر کر دیا ہے کہ خدا کے نزدیک مومن وہی لوگ ہیں کہ جو صرف خدا پر ایمان نہیں لاتے۔بلکہ خدا اور رسول دونوں پر ایمان لاتے ہیں۔پھر بغیر ایمان بالرسول کے نجات کیونکر ہو سکتی ہے۔اور بغیر رسول پر ایمان لانے کے صرف تو حید کس کام آسکتی ہے۔سے ل حقیقة الوحی صفحہ ۱۲۵ سے اس مضمون کی بعض آیات او پر بھی گذر چکی ہیں۔مرتب سے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۲۹