حیات طیبہ

by Other Authors

Page 383 of 492

حیات طیبہ — Page 383

383 کا مان لینا بھی ضروری ہو گیا پس میں بھی سید صاحب کو ہی ڈگری دیتا ہوں کہ آپ نے ایک کثیر جماعت سے عقائد احمدیہ کو منوالیا۔اے اس مناظرہ کے بعد حضرت میر قاسم علی صاحب نے پادری کو مباہلہ کا چیلنج کیا مگر وہ اُس پر آمادہ نہ ہوئے۔بلکہ جواب میں اشتہار دے دیا کہ میں میر صاحب کے مُرشد و امام مرزا غلام احمد صاحب سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔اس کے جواب میں حضرت اقدس نے لکھا کہ پادری احمد مسیح ایک گمنام سا آدمی ہے اس کے ساتھ مباہلہ کرنے کا چنداں فائدہ نہیں ہو گا۔اسے چاہیے کہ وہ مباہلہ کے لئے لاہور کلکتہ، مدراس اور بمبئی کے بشپ صاحبان کو میرے ساتھ مباہلہ کرنے پر آمادہ کرے کیونکہ اس صورت میں مباہلہ کا اثر تمام قوم پر پڑے گا اور اگر یہ خیال ہو کہ چاروں یکجا جمع نہیں ہو سکتے تو میں یہ بھی ظاہر کر دیتا ہوں کہ مباہلہ تحریری بھی ہوسکتا ہے۔جب ان کی درخواست میرے پاس پہنچے گی تو اخبارات میں مضمون مباہلہ فریقین کی طرف سے شائع ہو جائے گا اور اس کا انجام فیصلہ گن ہوگا۔میں محض حق رسانی کے خیال سے یہ بھی منظور کرتا ہوں کہ اگر چاروں بشپ صاحبان انکار کر دیں تو پھر ان چاروں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی باقیوں کے وکیل کی حیثیت سے مباہلہ کر لیا جاویگا۔مگر یہ درخواست ان کی طرف سے ہونی چاہئے۔میں اس امر کے لئے تین ماہ تک انتظار کرونگا۔کہ پھر چند روز بعد حضور نے ایک اور اشتہار شائع فرمایا جس میں لکھا کہ : بشپ صاحبان اگر پسند نہیں کرتے تو وہ بالمقابل اپنا نام پیش نہ کریں بلکہ اپنی تحریری سند دیگر بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے اخبار پایونیر یا سول میں صرف یہ شائع کر دیں کہ احمد مسیح کا مغلوب ہونا ہر چہار بشپ صاحبان کا مغلوب ہونا سمجھا جاویگا ( تو اس صورت میں ہم پادری احمد مسیح سے ہی مباہلہ کے لئے تیار ہیں) یہ بات بھی ہم اس واسطے کہتے ہیں کہ احمد مسیح ایک گمنام آدمی ہے اور جب تک بشپ صاحبان اس کو اپنا قائم مقام نہ بناویں۔قوم پر کچھ اثر نہیں ہوسکتا لیکن اب معاملہ بہت صاف کر دیا گیا ہے۔امید ہے کہ بشپ صاحبان پورے غور وفکر کے بعد اس مباہلہ کو منظور کرلیں گے۔مکررا یہ کہ اگر ہر چہار بشپ منظور نہ کریں تو صرف لاہور کے بشپ صاحب کی ہی تحریر کافی سمجھی جائے گی۔‘ سے پادری صاحب اس اشتہار کے نکلنے پر ایسے خاموش ہوئے کہ گویا انہوں نے حضرت اقدس سے مباہلہ کرنے کے لئے کوئی لفظ ہی زبان سے نہیں نکالا تھا۔الحکم ۷ را پریل ۱۹۰۶ء سے از اشتہار ۵ رمئی ۱۹۰۱ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۱۱۰ ملخصاً بقدر الحاجة سے از اشتها را ارمئی ۱۹۰۶ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد دهم صفحه ۱۱۲