حیات طیبہ — Page 382
382 مضحکہ اڑایا۔پھبتیاں گئیں کہ جب سارے مراحل طے ہو چکے اور یہ قسیم اپنی جگہ قائم رہی۔تو اب اس کے خلاف الہام شائع کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔1910 ء میں لارڈ منٹو بھی چلے گئے اور لارڈ ہارڈنگ وائسرائے بن کر ہندوستان آگئے۔ان کے زمانہ میں خلاف معمول ہندوستان میں بادشاہ جارج پنجم کی رسم تاجپوشی ادا کئے جانے کا فیصلہ ہوا۔۱۹۱۱ء میں تاجپوشی کے جلسہ کی تیاریاں ہونے لگیں۔لارڈ ہارڈنگ نے از خود ہی ایک تجویز وزیر ہند کو پیش کی۔جس میں لکھا کہ اہل بنگال کی دلجوئی کے لئے ضروری ہے کہ بنگال کی تقسیم منسوخ کر دی جائے اور اس کے اعلان کا بہترین موقعہ جارج پنجم کی تاجپوشی سمجھی گئی۔جارج پنجم مع ملکہ ہزاروں میل کا سفر طے کر کے دہلی تشریف لائے اور دہلی کے دربار میں جہاں ہندوستان بھر کے امراء، رؤساء، عمائد اور والیان ریاست جمع تھے۔اس تقسیم کی منسوخی کا اعلان کیا اور اعلان میں یہ الفاظ استعمال کئے کہ تقسیم بنگالہ کی تنسیخ محض اہل بنگال کی دلجوئی کے لئے کی گئی ہے۔رسالہ تشحمید الاذہان کا اجراء یکم مارچ ۱۹۰۶ء یکم مارچ ۱۹۰۶ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ایک اُردو رسالہ نکالنا شروع کیا جس کا نام تنفیذ الاذہان رکھا گیا۔اس زمانہ میں نوجوانوں کی تربیت اور مخالفین سلسلہ کو سیر کن اور تسلی بخش جوابات دینے اور احمدیت کو پھیلانے میں اس رسالہ نے بہت عمدہ کام انجام دیا۔پادری احمد مسیح کا مباہلہ سے انکار مئی ۱۹۰۶ء دہلی میں ایک نابینا پادری احمد مسیح تھے۔انہوں نے حضرت مسیح کے صلیب پر مرنے یا نہ مرنے کے مسئلہ پر حضرت میر قاسم علی صاحب سے مناظرہ شروع کر دیا۔حضرت میر صاحب نے دلائل قاطعہ کے ساتھ یہ ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح صلیب پر ہرگز نہیں مرے بلکہ بیہوش ہونے کی حالت میں زندہ ہی صلیب پر سے اُتار لئے گئے تھے۔یہ دلچسپ مناظرہ متواتر کئی روز تک جاری رہا اور آخر میں حاضرین نے یک زبان ہوکر حلفیہ شہادت دی کہ اس مناظرہ میں پادری احمد مسیح کو شکست فاش ہوئی ہے اور خود پادری احمد میس کو بھی ۴ را پریل ۱۹۰۶ء کو ایک جلسہ عام میں پہلو بدل کر اس شکست کا اعتراف کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔چنانچہ انہوں نے کہا : حاضرین! آپ نے جو جلسہ گذشتہ میں میرے برخلاف احمدی کو ڈگری دی ہے۔اس سے مجھے چنداں رنج نہیں۔بلکہ ایک قسم کی خوشی ہے اور وہ یہ کہ آپ نے بغیر سوچے جلدی سے سید صاحب کو ڈگری دیدی مگر یہ نہ جانا کہ اس ڈگری دینے سے ہم کو سید صاحب کے مذہب اور عقائد