حیات طیبہ

by Other Authors

Page 19 of 492

حیات طیبہ — Page 19

19 آنحضرت نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب حضرت مقدس منبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوشرنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر تربوز تھا۔آنحضرت سی پیہم نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لیے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہد نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔تب ایک مردہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا۔آنحضرت کے معجزہ سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آکھڑا ہوا اور یہ عاجز آنحضرت کے سامنے کھڑا تھا۔جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبر دست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرمارہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے سے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھالی۔پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو اے یں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرسی اونچی ہوگئی ہے حتی کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے اور میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ کا چہرہ مبارک ایسا چمکنے لگا کہ گویا اس پر سورج اور چاند کی شعاعیں پڑ رہی ہیں اور میں ذوق اور وجد کے ساتھ آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا اور میرے آنسو بہہ رہے تھے۔پھر میں بیدار ہو گیا اس وقت بھی میں کافی رور ہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مردہ شخص اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے ذریعہ سے اب میرے ہاتھ پر زندہ کریگا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ باپ اور بیٹے میں شماش آپ کے والد محترم کی شدید خواہش تھی کہ آپ کا بیٹا صرف قرآن مجید اور دیگر دینی کتب کے مطالعہ میں ہی نہ لگا رہے بلکہ کسی معز ز عہدہ پر فائز ہو کر اپنے دنیوی مستقبل کو بھی بہتر بنائے اور ان کے لئے انہوں نے کئی دفعہ آپ کو ملازمت کی طرف توجہ دلائی مگر ہر دفعہ آپ کے دینی رجحان اور دنیوی کاروبار سے نفرت کو دیکھ کر لے براہین احمدیہ حصہ سوم صفحه ۲۴۹،۲۴۸ حاشیه در حاشیه نمبر ۱ ترجمه از آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۴۹٬۵۴۸