حیات طیبہ — Page 374
374 عادت ہنگامہ آرائی اور مفسدہ پردازی میں حد ہی کر دی۔حضرت اقدس کو اس ہنگامہ کی اطلاع جلسہ سے قبل بذریعہ رو یا مل چکی تھی۔حضور نے گنے کا ایک کھیت دیکھا تھا۔جس سے مراد مفسدہ یا ہنگامہ ہوا کرتا ہے۔وقت مقررہ پر منڈ وہ کا بال سامعین سے بھر گیا۔حضرت اقدس نے پہلے تو یہ بیان فرمایا کو دیکھو۔آج سے چودہ سال قبل جب میں یہاں آیا تھا تو صرف چند آدمی میرے ساتھ تھے۔مولوی صاحبان نے مجھ پر کفر کا فتویٰ لگایا۔مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے میرے ساتھ مباہلہ کیا۔جس میں میں نے صرف اپنے لئے بددعا کی تھی کہ اگر میں اپنے دعویٰ میں جھوٹا اور مفتری ہوں تو خدا تعالیٰ مجھے ذلیل اور ہلاک کرے اُس کے لئے کوئی بددعا نہیں کی تھی۔مگر اس مباہلہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری اس قدر نصرت اور تائید کی کہ آج ہزار ہا آدمی میرے مُرید ہیں۔پھر مخالفوں کے دائر کئے ہوئے مقدمات میں ہمیشہ مجھ کو کامیابی عطا فرمائی۔اور ان کے شر و فساد سے محفوظ رکھا۔غرض ابھی حضور نے پون گھنٹہ کے قریب تقریر کی تھی کہ حضور کے ایک مرید نے اس خیال سے کہ حضور کا گلا خشک ہو گیا ہو گا چائے کی پیالی پیش کر دی۔رمضان کا مہینہ تھا اور حضور سفر میں تھے اور بیمار بھی تھے اس لئے حضور پر روزہ فرض نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود آپ نے اُس کے پینے سے انکار کر دیا۔تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ اور پھر تیسری بار پیش کی گئی۔آپ نے اُسے رد فرمانا مناسب خیال نہ فرمایا۔اور چائے پی لی بس پھر کیا تھا۔وہ ہنگامہ برپا ہوا کہ الامان والحفیظ! مخالف مولویوں کو تو ایک موقعہ مل گیا۔انہوں نے وہ طوفان بدتمیزی برپا کیا کہ تو بہ ہی بھلی۔حضور نے بہتیر سمجھایا کہ میں مسافر بھی ہوں اور مریض بھی اور قرآن کریم کی رُو سے مجھ پر روزہ فرض نہیں ہے۔قرآن کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے "فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ ايام اخر یعنی اگر تم میں سے کوئی مریض یا مسافر ہوتو وہ دوسرے ایام میں روزوں کی گنتی پوری کر لے۔مگر جب نیت ہی بد ہو تو معقول بات کو کون سنتا ہے۔مفسدہ پرداز برابر شور مچاتے رہے اور سیٹیوں اور تالیوں سے جلسہ کو درہم برہم کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔بعض بدطینت لوگ گندی اور مخش گالیاں بھی دیتے رہے۔امرتسر کے رؤساء اور پولیس نے لوگوں کو پر امن طور پر بٹھانے کی بہت کوشش کی مگر اُن کی کسی نے نہ سنی۔آخر یہی مناسب سمجھا گیا کہ حضرت اقدس کو ایک بند گاڑی میں سوار کرا کر حضور کی جائے قیام پر پہنچادیا جائے۔چنانچہ بند گاڑی منگوائی گئی اور حضور اس میں سوار ہو گئے۔حضور کی گاڑی کا باہر نکلنا تھا کہ مخالفین نے بے تحاشا گاڑی پر پتھروں کی بارش شروع کر دی یہ خدا تعالیٰ کی حفاظت تھی کہ حضور کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی مگر انہوں نے حضور کو تکلیف پہنچانے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔راستہ میں حضور نے فرمایا: ضرور تھا کہ یہ سنت بھی پوری ہوتی“