حیات طیبہ

by Other Authors

Page 364 of 492

حیات طیبہ — Page 364

ایک بار پھر لوگوں نے زبان حال سے کہا کہ 364 آہ نادرشاہ کہاں گیا اللہ! اللہ ! خدا کی باتیں بھی کس قدر عجیب ہوتی ہیں۔سالہا سال قبل ایک بات ایسے رنگ میں اور ایسے ماحول میں کہی جاتی ہے کہ پیشگوئی کر نیوالے کو بھی مطلقا علم نہیں ہوتا کہ میری یہ پیشگوئی کس رنگ میں اور کب پوری ہوگی۔۱۹۰۵ء میں جب حضرت اقدس نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی۔نادر شاہ کا بحیثیت بادشاہ کوئی وجود نہیں تھا۔آخر اٹھائیس برس بعد یہ پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی۔میں یہ عرض کر رہا تھا کہ نادر شاہ کی بے وقت موت سے ملک بھر میں صف ماتم بچھ گئی اور ہر شخص یہ پکار اٹھا کہ آہ نادرشاہ کہاں گیا۔“ پیشگوئی کے دو مفہوم اور دراصل اس ناگہانی موت میں بھی پیشگوئی کا دوسرا مفہوم پورا ہونا مقدر تھا اور یہ ہم اس وقوعہ کے بعد نہیں کہہ رہے۔بلکہ یہ بات سلسلہ کے آرگن ”الفضل میں حضرت امام جماعت احمدیہ کے ارشاد کے ماتحت اس وقت لکھی گئی۔جبکہ نادر شاہ ابھی تخت پر بیٹھے ہی تھے اور ان کی ہر دلعزیزی فہم وفراست اور تدبر کی باعث یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ انہیں وہ حادثہ پیش آئے گا جو چار سال بعد پیش آیا۔چنانچہ الفضل نے لکھا کہ : دوسرے مفہوم میں ایک ایسا خیال جھلک رہا ہے کہ موسوم کو کوئی خطر ناک مصیبت پیش آئے گی اور اس نقصان پر بہت رنج و غم محسوس کیا جائے گا۔‘ 1 اس تحریر سے ظاہر ہے کہ جماعت احمد یہ شروع سے ہی اس پیشگوئی کے دونوں پہلوؤں کی قائل تھی۔خدا ترس لوگ اگر غور فرما ئیں تو یہ بات بھی ان کی ہدایت کا کافی سامان اپنے اندر رکھتی ہے۔آخر خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ ایک نہایت ہی معمولی انسان بچہ سقہ کے ذریعہ امان اللہ خاں ایسے زبر دست بادشاہ کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر رکھ دے کیا وہ نادر خاں کے ذریعہ ہی یہ کام نہیں کر سکتا تھا ؟ یقینا کر سکتا تھا۔مگر وہ اس خاندان کے لئے اور دوسری دنیا کے لئے ایک عبرت کا سامان پیدا کرنا چاہتا تھا کہ دیکھو جب کوئی شخص ظلم میں حد سے بڑھ جاتا ہے اور ہمارے بندوں کو ناحق قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا تو ہم اسے اس طرح ذلیل ورسوا کیا کرتے ہیں۔امان اللہ خاں کو ذلیل کرنے کا ایک سامان اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ اس واقعہ سے پہلے انہیں سارے یورپ کی سیر کرائی۔اور دنیا کے تمام بڑے بڑے بادشاہ اُن کے استقبال کے لئے حاضر ہوتے رہے اور ان کے اعزاز میں له الفضل ۳ جنوری ۱۹۳۰ء