حیات طیبہ — Page 363
363 جیسے دشمن کا مقابلہ جوامان اللہ خاں جیسے بادشاہ کو شکست دے کر کابل کے تخت پر قابض ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی معمولی کام نہ تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کو چونکہ یہ نشان دکھانا مقصود تھا اس لئے وہ باوجود بے سروسامانی ، خرابی صحت اور طوائف الملوکی کے بچہ سقہ کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے اور چاہا کہ اہلِ افغانستان اپنے میں سے جس کو چاہیں اپنا بادشاہ بنالیں۔مگر افغانوں نے آپ کو ہی اپنا بادشاہ بنانا منظور کیا۔نادر خاں نے تخت حکومت پر بیٹھتے ہی ملک کے قدیم دستور کے خلاف یہ اعلان کیا کہ آئندہ کے لئے انہیں نادر خاں یا شاہ نادر خاں کے نام سے نہ پکارا جائے۔بلکہ نادرشاہ کہہ کر پکارا جائے جب حضرت اقدس کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی تو سلسلہ احمدیہ کے آرگن و الفضل نے اس کا نمایاں طور پر ذکر کیا اس پر اخبار اہلحدیث“ نے اعتراض کیا کہ: کیا افغانستان میں نادرشاہ بولا جاتا ہے؟ کیا افغانستان کی اصطلاح میں بادشاہ کو شاہ کے لقب سے کبھی یاد کیا گیا ؟ کیا کبھی عبدالرحمن شاہ یا حبیب اللہ شاہ یا امان اللہ شاہ کے القاب کسی نے سنے؟ وہاں تو شاہ کا لقب بادشاہ کے لئے ہے ہی نہیں۔بلکہ ہم کہیں گے کہ ہندوستان میں کسی معتبر تحریر میں عبد الرحمن شاہ یا حبیب اللہ شاہ وغیرہ نہیں ملتے۔پس اگر یہ الہام افغانستان کے مافی الضمیر کی ترجمانی ہوتی تو شاہ کا لقب نہ ہوتا بلکہ نادر خاں کا لقب ہوتا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نادرشاہ والا الہام کسی اور موقعہ کے لئے ہے۔امیر نادر خاں کے متعلق نہیں۔‘1 لیکن قارئین کرام یہ شن کر حیران ہوں گے کہ ابھی اس اخبار کی سیاہی بھی خشک ہونے نہ پائی تھی کہ نادر شاہ کے بھائی سردار ولی خاں صاحب لاہور میں تشریف لائے اور انہوں نے سید حبیب صاحب مالک اخبار ”سیاست“ کو یہ بیان دیا کہ ”ہندوستان میں لوگ اعلیٰ حضرت کا نام غلط لکھتے ہیں۔جس روز انہوں نے اعلان مملکت کیا۔اس روز وہ خان کی جگہ شاہ ہو گئے۔اب اُن کا نام نادرشاہ شاہ افغانستان ہے۔خدا کے نوشتے پورے ہوئے۔مگر اس الہام کو ایک اور رنگ میں بھی پورا ہونا تھا۔ٹھیک چار برس حکومت کرنے کے بعد ۸/ نومبر ۱۹۳۳ ء کو نادر شاہ اپنے محل دلگشا میں طالب علموں کو ایک کھیل کے مقابلہ کے نتیجہ میں انعامات تقسیم کر رہے تھے کہ انہیں طالب علموں میں سے ایک نے ان پر ایک گز کے فاصلہ سے متواتر تین فائر کر دیئے اور یکدم وہ مجمع طرب۔بزم عزا بن گیا اور لوگ بدحواس ہو کر یہ کہتے ہوئے بازاروں کی طرف دوڑ پڑے کہ شاہ فوت ہو گئے۔شاہ فوت ہو گئے۔پہرے دار کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور کوئی شخص اپنے محبوب اور ہر دلعزیز بادشاہ کو موت کے حملہ سے نہ بچا سکا۔اس غیر متوقع اور اچانک موت کے نتیجہ میں ملک بھر میں صف ماتم بچھ گئی اور لے بحوالہ ایک تازہ نشان کا ظہور صفحہ ۲۰ - ۲ اخبار سیاست ۱۱ دسمبر ۱۹۲۹ء