حیات طیبہ — Page 14
14 کثرت مطالعہ مطالعہ کے طور پر سب سے زیادہ آپ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔حتی کہ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں ہم نے آپ کو جب بھی دیکھا قرآن کریم ہی پڑھتے دیکھا۔آپ کے بڑے فرزند حضرت مرزا اسلطان احمد صاحب کی روایت ہے کہ ” آپ کے پاس ایک قرآن مجید تھا اس کو پڑھتے اور اس پر نشان کرتے رہتے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں بلا مبالغہ کہ سکتا ہوں کہ شاید دس ہزار مرتبہ اس کو پڑھا ہو۔کتابوں کے مطالعہ میں آپ کو اس قدر انہماک ہوتا تھا کہ دنیا و مافیہا سے بالکل بے نیاز ہو کر آپ یہ کام کرتے تھے۔آپ کا اپنا بیان ہے کہ: ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر تو جہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے۔کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے۔مقدمات کی پیروی آپ کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب دیکھ رہے تھے کہ آپ کو دینی کتب کے مطالعہ اور نماز روزہ وغیرہ احکام الہی کو بجالانے کا تو شغف ہے لیکن دنیاوی امور سے جو انہیں اپنی زمیندارانہ حیثیت میں پیش آتے تھے آپ بالکل غافل ہیں۔اس لئے اس خیال سے کہ میرا یہ بیٹا کہیں میرے بعد اپنے بڑے بھائی کا دست نگر نہ رہے آپ کو حکما مقدمات کی پیروی کے لئے ارشاد فرما دیتے تھے سے۔آپ اپنے والد صاحب کی اطاعت کی خاطر ان مقدمات کی پیروی میں مصروف تو ہو جاتے تھے لیکن بالطبع آپ کو اس شغل سے نفرت تھی۔چنانچہ آپ کا بیان ہے کہ ” میرے والد صاحب اپنے بعض آباء و اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔انہوں نے انہی خدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک عرصہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی حیات النبی جلد اول صفحہ ۱۰۸ سے حاشیہ کتاب البریہ طبع دوم صفحه ۱۵۰ سے روایت حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مندرجہ العام "سیرت مسیح موعود نمبر صفحه ۵ پر چمئی جون ۱۹۳۳ء