حیات طیبہ

by Other Authors

Page 13 of 492

حیات طیبہ — Page 13

13 کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے اور پنشن پانے کے تھوڑے عرصہ بعد اپنے چھوٹے بھائی حضرت مرزا بشیرالدین محموداحمد خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔آپ نہ صرف ایک قابل افسر ہی تھے بلکہ مشہور اہل قلم اور صاحب تصانیف کثیرہ بھی تھے۔چنانچہ آپ کی قریبا ۵۰ کتب زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ آپ کے بڑے فرزند حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے جنہوں نے بچپن میں ہی اپنے جد امجد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔آپ نے اے۔ڈی۔ایم کے عہدہ سے ریٹائر ہو کر پینشن پائی اب مرکز سلسلہ میں ناظر اعلیٰ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے۔انہوں نے اپنی ساری عمر نہایت ہی اخلاص اور دینداری میں گزاری ہے اور اپنے ایام ملازمت میں دیانت، فرض شناسی اور معدلت پروری کا ممتاز ترین نمونہ دکھلایا ہے۔آپ کی خلوت نشینی ملک کے عام دستور کے خلاف شادی کے بعد بھی حضرت اقدس کی خلوت نشینی اور عزلت پسندی میں ذرہ فرق نہیں آیا۔چنانچہ قادیان کے پاس کا ایک ہندو جاٹ بیان کیا کرتا تھا کہ میں مرزا صاحب سے بیس سال بڑا ہوں۔بڑے مرزا صاحب کے کے پاس میرا بہت آنا جانا تھا۔میرے سامنے کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کوئی بڑا افسر یا رئیس بڑے مرزا صاحب سے ملنے کیلئے آتا تھا۔تو باتوں باتوں میں ان سے پوچھتا تھا کہ مرزا صاحب! آپ کے بڑے لڑکے ( یعنی مرزا غلام قادر صاحب) کے ساتھ تو ملاقات ہوتی رہتی ہے لیکن آپ کے چھوٹے بیٹے کو بھی نہیں دیکھا وہ جواب دیتے تھے کہ ہاں میرا دوسر الڑ کا غلام قادر سے چھوٹا ہے تو سہی پر وہ تو الگ ہی رہتا ہے۔پھر وہ کسی کو بھیج کر مرزا صاحب کو بلواتے تھے۔چنانچہ آپ آنکھیں بچی کئے ہوئے آتے اور والد صاحب کے پاس ذرا فاصلہ پر بیٹھ جاتے اور یہ عادت تھی کہ بایاں ہاتھ اکثر منہ پر رکھ لیا کرتے تھے اور کچھ نہ بولتے۔اور نہ کسی کی طرف دیکھتے۔بڑے مرزا صاحب فرماتے کہ اب تو آپ نے اس دُلہن کو دیکھ لیا۔بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا مسیر سے ہے نہ نوکری کرتا ہے نہ کماتا ہے اور پھر وہ ہنس کر کہتے کہ چلو تمہیں کسی مسجد میں ملا کر وا دیتا ہوں۔دس من دانے تو گھر میں کھانے کو آجایا کریں گے۔۔آج وہ زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ کیا بادشاہ بنا بیٹھا ہے اور سینکڑوں آدمی اس کے در کی غلامی کے لئے دُور دُور سے آتے ہیں۔“ سے لے یعنی حضرت مرز اعلام مرتضی صاحب سے یہ ایک پنجابی لفظ ہے جس کے معنی ہیں ایسا شخص جواپنے وقت کا اکثر حصہ مسجد میں نمازوں کے ادا کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے میں گزارے۔سے تذکرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ ۳۰