حیات طیبہ — Page 312
312 دوسرے روز ا ا ر جنوری کو حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا کہ میں اعجاز احمدی کی دعوت کے مطابق قادیان آ گیا ہوں۔اُمید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیشگوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔“ حضرت اقدس نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے دعوت دی تھی نہ کہ مناظرہ کی کیونکہ آپ بہت سے مناظرے ہو جانے کے بعد اس وجہ سے کہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے۔اپنی کتاب ”انجام آتھم میں بقید قسم یہ اعلان فرما چکے تھے کہ آئندہ ان لوگوں سے مناظرہ نہیں کیا جائے گا لیکن مولوی ثناء اللہ صاحب مناظرہ کی طرح ڈالنا چاہتے تھے تا اگر حضرت اقدس منظور فرمالیں۔تو مولوی صاحب موصوف کو یہ کہنے کا موقعہ ملے کہ انہوں نے اپنی قسم کی خلاف ورزی کی ہے اور اگر آپ منظور نہ کریں تو مولوی صاحب یہ کہہ دیں کہ باوجود مجھے بلانے کے میری تسلی کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت اقدس نے انہیں لکھا کہ پیشگوئیوں کی تحقیق کے لئے یہ صورت کافی ہے۔کہ آپ کو جس پیشگوئی پر شبہ ہو وہ دوڈیڑھ سطر میں مجھے لکھ کر دیدیں میں اس کا جواب دوں گا۔اگر کوئی اور شبہ پیدا ہوتو وہ بھی لکھ کر دے سکتے ہیں۔اگر یہ منظور نہ ہو تو خیر۔ورنہ مناظرے نہ کرنے کا تو میں انجام آتھم میں اعلان کر چکا ہوں، لیکن چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا مقصود پیشگوئیوں سے متعلق شبہات رفع کرانا نہیں تھا بلکہ وہ تو یہی تجویز کر کے قادیان آئے تھے کہ مناظرہ کی صورت نکل آئے۔اس لئے وہ حضرت اقدس کی تجویز پر رضامند نہیں ہوئے اور واپس امرتسر روانہ ہو گئے اور اس طرح حضرت اقدس کی وہ پیشگوئی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہر گز نہیں آئیں گے۔پوری ہو گئی۔اے سفر جہلم برائے مقدمہ مولوی کرم الدین۔۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء اس مقدمہ کا پس منظر اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی نے جو اپنی کتاب ”سیف چشتیائی مولوی محمد حسن صاحب سکنہ بھیں کے نوٹوں کو چرا کر لکھی تھی اور اس غریب کا نام تک بھی اپنی کتاب میں نہ لیا تھا۔اس سلسلہ میں جو خط و کتابت حضرت اقدس حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی اور حضرت مولوی فضل دین صاحب بھیروی کے ساتھ میاں شہاب الدین صاحب اور مولوی کرم الدین صاحب سکنہ بھیں نے کی تھی۔اسے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم نے شائع کر دیا تھا اور اس کی اشاعت پر مولوی کرم الدین صاحب کو بہت برہمی ہوئی اور سراج الاخبار، جہلم میں پیر مہر علی شاہ صاحب کے مُریدوں کو خوش کرنے کے لئے ا تفصیل کے لئے دیکھئے الحکم سے فروری ۱۹۰۳ء