حیات طیبہ

by Other Authors

Page 279 of 492

حیات طیبہ — Page 279

279 نام پوچھا گیا تو فرمایا کہ نام نہیں بتلاؤں گا۔مگر اس قدر بتلاتا ہوں کہ زبان اس کی پنجابی ہے۔یہ حضرت سید امیر کو ٹھے والے وہی بزرگ ہیں۔جن کی بیعت کا شرف حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی نے اُن کی خدمت میں حاضر ہو کر حاصل کیا تھا۔ضمیمہ تحفہ گولڑویہ میں حضرت اقدس نے آیت لو تقول علینا کی بڑی شرح وبسط کے ساتھ تفسیر بیان کی ہے اور تئیس سالہ عمر پانے والے مفتری کی مثال پیش کرنے والے کے لئے پندرہ دن کی مہلت اور پانچ سوروپیہ انعام مقررفرمایا ہے۔اس کتاب کے ٹائیٹل پر حضرت اقدس نے پیر مہر علی شاہ صاحب کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ: اگر وہ اس کے مقابل پر کوئی رسالہ لکھ کر میرے ان تمام دلائل کو اول سے آخر تک توڑ دیں اور پھر مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایک مجمع بٹالہ میں مقرر کر کے ہم دونوں کی حاضری میں میرے تمام دلائل ایک ایک کر کے حاضرین کے سامنے ذکر کریں اور پھر ہر ایک دلیل کے مقابل پر جس کو وہ بغیر کسی کمی بیشی اور تصرف کے حاضرین کو سناویں گے پیر صاحب کے جوابات سنا دیں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں کہ یہ جوابات صحیح ہیں اور دلیل پیش کردہ کی قلع قمع کرتے ہیں۔تو میں مبلغ پچاس رو پیدا انعام بعد فتحیابی پیر صاحب کو اسی مجلس میں دیدوں گا۔“ ۵- اربعین۔اس زمانہ میں چونکہ مخالفت کا بڑا زور تھا۔اس لئے آپ نے ارادہ فرمایا کہ مخالفین پر حجت تمام کرنے کے لئے اپنے دعاوی پر مشتمل لگاتار چالیس اشتہارات شائع کئے جائیں۔اسی ارادہ کے پیش نظر آپ نے ان اشتہارات کا نام اربعین رکھا۔ان میں سے پہلا اشتہار تو واقعی ایک اشتہار کی شکل میں نکلا۔مگر بعد کے اشتہارات کا حجم زیادہ ہو گیا۔اس لئے وہ رسالوں کی شکل میں نکلنا شروع ہو گئے۔ابھی چار ہی رسالے نکلے تھے کہ ایک درمیانہ درجہ کی کتاب کا حجم ہو گیا۔اس پر آپ نے اسی پر اکتفا کر کے یہ چاروں رسالے ایک کتاب کی شکل میں شائع فرما دیئے مگر نام اربعین ہی رہنے دیا۔غیر احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت کیوں کی گئی اب تک تو حضرت اقدس نے اپنی جماعت کو غیر احمدیوں کی امامت میں نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا تھا، لیکن اب مخالفت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ احمدی جب نماز پڑھنے کے لئے غیر احمدیوں کی مساجد میں جاتے تھے تو انہیں سخت تنگ کیا جاتا تھا۔جن کوزوں سے وہ وضو کرتے تھے وہ کوزے توڑ دیئے جاتے تھے۔جن چٹائیوں پر لے تحفہ گولڑویہ صفحہ ۵۵، ۵۶ حاشیہ سے سوانح حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی صفحه ۲۸