حیات طیبہ

by Other Authors

Page 278 of 492

حیات طیبہ — Page 278

278 صاحب دیگرانی کی زبانی سنیئے۔حکیم صاحب موصوف خود کوٹھے میں گئے اور وہاں جا کر جو شہادتیں انہوں نے پیر صاحب کو ٹھے والے کے مریدوں سے حاصل کیں ان میں سے دو کا ذکر حضرت اقدس کی خدمت میں بذریعہ خط کیا۔اور وہ یہ ہیں : ا۔ایک صاحب حافظ قرآن نور محمد نام اصل متوطن گڑھی اماز کی حال مقیم کوٹھہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ( کو ٹھے والے ) ایک دن وضو کرتے تھے اور میں روبرو بیٹھا تھا۔فرمانے لگے کہ ہم اب کسی اور کے زمانہ میں ہیں، میں اس بات کو نہ سمجھا اور عرض کیا کہ کیوں حضرت اس قدر معمر ہو گئے ہیں کہ اب آپ کا زمانہ چلا گیا۔ابھی آپ کے ہم عمر لوگ بہت تندرست ہیں اور اپنے دنیوی کام کرتے ہیں۔فرمانے لگے کہ تو میری بات کو نہیں سمجھا۔میرا مطلب تو کچھ اور ہے۔پھر فرمانے لگے کہ جو خدا کی طرف سے ایک بندہ تجدید دین کے لئے مبعوث ہوا کرتا ہے وہ پیدا ہو گیا ہے ہماری باری چلی گئی۔میں اس لیے کہتا ہوں کہ ہم کسی غیر کے زمانہ میں ہیں۔پھر فرمانے لگے کہ وہ ایسا ہوگا کہ مجھ کو تو کچھ تعلق مخلوق سے بھی ہے۔اس کو کسی کے ساتھ تعلق نہ ہوگا اور اس پر اس قدر شدائد و مصائب آئیں گے جن کی نظیر زمانہ گذشتہ میں نہ ہوگی۔مگر اس کو کچھ پروا نہ ہوگی پھر میں نے عرض کی کہ نام ونشان یا جگہ بتاؤ۔فرمانے لگے نہیں بتاؤں گا۔اے ۲۔دوسرے صاحب جن کا نام گلزار خان ہے جو ساکن موضع بڑا بیر علاقہ پشاور میں ہیں اور حال میں ایک موضع میں کو ٹھہ شریف کے قریب رہتے ہیں اور اس موضع کا نام ٹوپی ہے یہ بزرگ بہت مدت تک حضرت صاحب ( مراد پیر صاحب کو ٹھے والے۔ناقل ) کی خدمت میں رہے ہیں۔انہوں نے قسم کھا کر بیان کیا کہ ایک دن حضرت صاحب عام مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور طبیعت اس وقت بہت خوش و خرم تھی۔فرمانے لگے کہ میرے بعض آشنا مہدی آخر الزمان کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے (اشارہ تھا کہ اسی ملک کے قریب مہدی ہوگا۔جس کو دیکھ سکیں گے ) اور پھر فرمایا۔کہ اس کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں گے۔ایسا ہی ایک شخص مرزا محمد اسمعیل کے قندہاری نے جو انسپکٹر مدارس رہ چکے تھے۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب سے بیان کیا کہ وہ ایک مدت تک حضرت کو ٹھے والے پیر صاحب کے پاس رہے ہیں۔وہ کہتے تھے کہ مہدی آخر الزمان پیدا ہو گیا ہے۔ابھی اس کا ظہور نہیں ہوا۔اور جب ل تحفہ گولڑویہ صفحہ ۵۷ حاشیہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۵۷ حاشیہ سے یہ صاحب حضرت مولانا غلام حسن خان صاحب پیشاوری کی بیوی کے ماموں اور حضرت اقدس کے مصدقین میں سے تھے۔الفضل ۱۳ فروری ۱۹۴۸ء