حیات طیبہ — Page 265
265 پیر صاحب کی ایک اور ہوشیاری پیر صاحب نے جب دیکھا کہ تفسیر نویسی میں مقابلہ تو ممکن نہیں اور اپنے مریدوں خصوصا سرحدی مریدوں میں اپنی عزت و شہرت کو قائم رکھنا بھی ضروری ہے اس لئے لاہور میں یہ مشہور کر دیا کہ ہم نے مرزا صاحب کی تمام شرائط منظور کر لی ہیں اور ہم اُن سے تقریری بحث کرنے کے لئے لاہور آنے والے ہیں۔حالانکہ حضرت اقدس چار سال قبل انجام آتھم میں تقریری بحثوں کو فضول سمجھ کر اس امر کا عہد فرما چکے تھے کہ اب تقریری بخشیں نہیں کریں گے مگر پیر صاحب کو تو سستی شہرت درکار تھی۔اُن کے مریدوں نے لاہور کے گلی کوچوں میں پیر صاحب کی آمد آمد کا خوب ڈھنڈورا پیٹا۔اور حضرت اقدس اور آپ کی جماعت کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے اور لوگوں کو احمدیوں کی مخالفت پر اُکسایا۔اگر پیر صاحب اور اُن کے مریدوں کے دل میں ذرا بھی خدا تعالیٰ کا خوف ہوتا تو وہ کبھی بھی ایسا جھوٹ مشہور نہ کرتے کہ گویا حضرت اقدس نے تقریری بحث کو منظور فرما لیا ہے۔حضرت اقدس نے تو پیر صاحب کو تفسیر نویسی کے مقابلہ کے لئے بلایا تھا، مگر اس کا اُن کے مرید نام بھی نہیں لیتے تھے۔پیر صاحب کی لاہور میں آمد ۲۴ /اگست ۱۹۰۰ء پیر صاحب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ حضرت اقدس نے انہیں تفسیر نویسی میں مقابلہ کے لئے بلایا ہے اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ ہم نے تفسیر نویسی میں مقابلے کے ذکر کو چھوڑ کر اپنی طرف سے عقائد کی بحث منظور کر لینا حضرت اقدس کی طرف منسوب کر دیا ہے جو واقعہ کے سراسر خلاف ہے اور حضرت اقدس عقائد میں بحث بوجوہ مندرجہ بالا منظور نہیں کریں گے اور بجائے تفسیر نویسی میں مقابلہ کرنے کے عقائد کی بحث کے لئے جس کو آپ ترک کر چکے ہیں۔لاہور میں ہر گز نہیں آئیں گے۔اس لیے وہ اپنے مریدوں کی ایک فوج لے کر ۲۴ /اگست ۱۹۰۰ ء کو لاہور میں آ پہنچے اور لگے حضرت اقدس کو چیلنج کرنے کہ آؤ اور میرے ساتھ عقائد کے بارہ میں بحث کرلو۔حالانکہ حضرت اقدس نے تو بالمقابل تفسیر نویسی کا چیلنج کیا تھا اور تقریری بحث کا ذکر تک نہ کیا تھا۔لاہور کے احمدی احباب نے جب دیکھا کہ یہ لوگ غلط اور جھوٹا پراپیگنڈہ کر کے لوگوں کو دھوکہ دیگر مشتعل کر رہے ہیں تو انہوں نے بھی ۲۴؎ اگست ۱۹۰۰ ء کو انکشاف حقیقت کے لئے ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ اگر پیر صاحب نے حضرت مرزا صاحب کی دعوت مقابلہ اور اُن کی شرائط کو منظور کر لیا ہے تو کیوں خود جناب پیر صاحب سے ( اُن کے مرید۔ناقل ) صاف الفاظ میں یہ اشتہار نہیں دلواتے کہ ہمیں حضرت مرزا صاحب کے اشتہار کے مطابق بلا کمی بیشی تفسیر القرآن میں مقابلہ منظور ہے۔“