حیات طیبہ — Page 259
259 وو ۳۔انڈین ڈیلی گراف نے بھی ایک کافی لمبا تبصرہ کیا۔جس کے دوران میں لکھا کہ ہماری رائے ہے کہ بشپ صاحب اگر اس چیلنج کو منظور کر لیں تو بہت اچھا ہو گا۔“ نیز لکھا کہ ہم یہ بھی نہیں سمجھ سکتے کہ بشپ صاحب کس طرح یہ عذر کر سکتے ہیں کہ ایسے عمدہ مباحثہ میں ان کے وقت کا بڑا حصہ صرف ہو جائے گا۔ان کو ایسے مخالفوں کا رڈ کرنے اور ان کو قائل کرنے کا یہ موقع کسی طرح بھی ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے خصوصاً جبکہ اُن سے یہ ثابت کرنے کی خواہش کی گئی ہے کہ عیسائیت اور اسلام ہر دو مذاہب میں سے کونسا مذہب زندہ کہلا سکتا ہے اور قرآن مجید اور بائیبل دونوں کی تعلیمات میں سے کس کی تعلیم زیادہ افضل اور انسانی فطرت کے مطابق ہے ہم پسند کریں گے اگر چیلنج منظور کر لیا جائے کیونکہ ہمارے خیال میں یہ نہایت ہی دلچسپ ثابت ہوگا۔لے بشپ لیفر ائے صاحب کے فرار کی تمام وجوہ انکار کی لغویت کو بعد ازاں ریویو آف ریلیجنز میں بھی پوری شرح وبسط کے ساتھ شائع کر دیا گیا اور اس وقت بھی انہیں چیلنج کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔مگر انہوں نے نہ مانا تھا نہ مانا۔اشتہار چنده منارة اسح ۲۸ مئی ۱۹۰۰ء ۲۸ مئی ۱۹۰۰ء کو حضرت اقدس نے احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء پورا کرنے کے لئے مسجد اقصٰی کے شرقی جانب ایک مینار تعمیر کرنے کی تجویز فرمائی اور اس کی تین اغراض بیان فرمائیں۔اول یہ کہ مؤذن اس پر چڑھ کر پنجوقت بانگ نماز دیا کرے اور تا خدا کے پاک نام کی اونچی آواز سے دن رات میں پانچ دفعہ تبلیغ ہو اور تا مختصر لفظوں میں پنجوقت ہماری طرف سے انسانوں کو یہ ندا کی جائے کہ وہ ازلی اور ابدی خدا جس کی تمام انسانوں کو پرستش کرنی چاہئے۔صرف وہی خدا ہے جس کی طرف اس کا برگزیدہ اور پاک رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم رہنمائی کرتا ہے۔اس کے سوانہ زمین میں نہ آسمان میں اور کوئی خدا نہیں۔دوم۔دوسرا مطلب اس مینارہ سے یہ ہوگا کہ اس مینارہ کی دیوار کے کسی بہت اونچے حصے پر ایک بڑا لالٹین نصب کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ روشنی انسانوں کی آنکھیں روشن کرنے کے لئے دُور دُور جائے گی۔لے پر چه ۱۹ جون ۱۹۰۰ء