حیات طیبہ — Page 260
260 سوم۔تیسرا مطلب اس مینارہ سے یہ ہوگا کہ اس منارہ کی دیوار کے کسی اونچے حصہ پر ایک بڑا گھنٹہ۔۔۔۔نصب کر دیا جائے گا۔تا انسان اپنے وقت کو پہچانیں اور انسانوں کو وقت شناسی کی طرف توجہ ہو۔یہ تینوں کام جو اس منارہ کے ذریعہ سے جاری ہوں گے ان کے اندر تین حقیقتیں مخفی ہیں۔اول یہ کہ بانگ جو پانچ وقت اونچی آواز سے لوگوں کو پہنچائی جائے گی۔اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ اب واقعی طور پر وقت آگیا ہے کہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدُر سُولُ اللہ کی آواز ہر ایک کان تک پہنچے۔یعنی اب وقت خود بولتا ہے کہ اس ازلی ابدی زندہ خدا کے سوا جس کی طرف پاک رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی کی ہے۔اور سب خدا جو بنائے گئے ہیں باطل ہیں۔کیوں باطل ہیں؟ اس لئے کہ ان کے ماننے والے کوئی برکت ان سے نہیں پا سکتے۔کوئی نشان دکھلا نہیں سکتے۔دوسرے۔وہ لالٹین جو اس منارہ کی دیوار میں نصب کی جائے گی۔اس کے نیچے حقیقت یہ ہے کہ تا لوگ معلوم کریں کہ آسمانی روشنی کا زمانہ آگیا اور جیسا کہ زمین نے اپنی ایجادوں میں قدم آگے بڑھایا۔ایسا ہی آسمان نے بھی چاہا کہ اپنے نوروں کو بہت صفائی سے ظاہر کرے تا حقیقت کے طالبوں کے لئے پھر تازگی کے دن آئیں اور ہر ایک آنکھ جو دیکھ سکتی ہے۔آسمانی روشنی کو دیکھے اور اس روشنی کے ذریعہ سے غلطیوں سے بچ جائے۔تیسرے وہ گھنٹہ جو اس منارہ کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا۔اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ تا لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں۔یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آ گیا۔اب سے زمینی جہاد بند ہو گیا ہے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔لے منارة اسح کا سنگ بنیادرکھا جانا ۱۹۰۳ء میں منارة المسیح کے لئے کچھ چندہ تو جمع ہو گی مگر اور کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے اس کی تعمیر میں کچھ تاخیر ہوگئی۔یہاں تک کہ ۱۹۰۳ ء میں حضور نے اس کا سنگ بنیا درکھا۔جس وقت اس کی دیوار میں بنیادوں سے ذرا اونچا اُٹھنا شروع ہوئیں تو مخالفوں نے حکام تک شکایتیں کرنا شروع کر دیں کہ ہماری بے پردگی ہوگی۔اس لئے اس کی تعمیر بند ہونی چاہئے۔ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے تحصیلدار بٹالہ کو تحقیقات کے کام پر مامور کیا۔تحصیلدار صاحب نے تبلیغ رسالت جلد نهم صفحه ۳۵ ۳۶ - اشتہار ۲۸ مئی ۱۹۰۰ء