حیات طیبہ — Page 252
252 لے کر حاضر ہو جاتے متواتر دورا تیں حضرت منشی صاحب نے جاگ کر گزار ہیں۔حضرت اقدس ان کے اس اخلاص کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ در حقیقت آداب مرشد اور خدمت گذاری ایسی شئے ہے۔جو مرید و مرشد میں ایک گہرا رابطہ قائم کر کے وصول الی اللہ اور حصولِ مرام کا نتیجہ پیدا کرتی ہے۔۱۶ جولائی 1901 ء کو عدالت میں آپ کی پیشی تھی۔آپ کی شہرت کی وجہ سے گورداسپور کے تین اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر بھی اپنی عدالتیں چھوڑ کر آپ کا بیان سننے کے لئے متعلقہ عدالت میں آگئے۔حضرت اقدس نے نہایت صفائی کے ساتھ اپنا بیان دیا اور پھر ہشاش بشاش باہر تشریف لے آئے۔اس کے بعد دس اگست ۱۹۰۱ء کو پیشی تھی۔اس روز مدعا علیہم کے گواہ پیش ہو کر وکلا کی بحث بھی ختم ہوگئی اور بارہ اگست ۱۹۰۱ء کو فیصلہ سنادیا گیا۔فیصلہ کیا تھا۔ایک بجلی تھی جو مرزا امام الدین پر گری۔ڈسٹرکٹ جج نے حکم دیا کہ مدعا علیہ دیوار فوراً گر اوے اور آئندہ کبھی بھی سفید میدان میں کوئی تعمیر نہ کی جائے اور اخراجات مقدمہ کے علاوہ ایک سور و پیہ بطور جرمانہ مدعی (حضرت اقدس ) کو ادا کیا جائے۔حضرت اقدس اس روز گورداسپور تشریف نہیں لے گئے تھے۔شام کو جب حضور کی خدمت میں یہ خبر پہنچی تو حضور نے فرمایا ” گویا ایک سال آٹھ ماہ کا رمضان تھا۔جس کی آج عید ہوئی۔“ اے ۲۰ اگست شام کے چار بجے اسی بھنگی کو وہ دیوار گرانی پڑی جس کے ذریعہ سے مرزا امام الدین نے وہ تیار کروائی تھی۔اب رہا معاملہ حرجانہ اور خرچہ مقدمہ کی ادائیگی کا۔سومرزا امام الدین صاحب جانتے تھے کہ حضرت اقدس تو رحیم و کریم انسان ہیں۔حرجانہ وغیرہ کی ادائیگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چنانچہ انہوں نے حضور کی خدمت میں معافی حرجانہ کی درخواست کی۔جو بڑی فراخدلی کے ساتھ قبول کر لی گئی۔اس مقدمہ میں ایک اعجازی نشان کا ظہور اس مقدمہ میں جو اعجازی نشان ظاہر ہوا اُس کا ذکر حضرت اقدس نے اپنی عدیم النظیر تصنیف حقیقۃ الوحی میں کیا ہے۔حضور فرماتے ہیں : یہ دن بڑی تشویش کے تھے یہاں کہ ہم ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ کے مصداق ہو گئے اور بیٹھے بیٹھے ایک مصیبت پیش آگئی۔اس لئے جناب الہی میں دُعا کی گئی اور اس سے مدد مانگی گئی۔تب بعد دُعا مندرجہ ذیل الہام ہوا۔“ سے الحکم ۱۷ اگست ۱۹۰۱ء سے حقیقة الوحی صفحه ۲۶۶