حیات طیبہ

by Other Authors

Page 253 of 492

حیات طیبہ — Page 253

253 الرَّحَى تَدُورُ وَيَنزِلُ الْقَضَاءُ إِنَّ فَضْلَ اللهِ لَاتٍ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَرُ ذَمَا أَتَى قُلْ إلى وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقِّ لَّا يَتَبَدَّلُ وَلَا يَخْفَى وَيَنْزِلُ مَا تَعْجَبُ مِنْهُ وَحْيَّ مِّنْ رَّبِّ السَّمَوتِ الْعُلى۔إِنَّ رَبِّي لَا يَضِلُّ وَلَا يَنْسَى ظَفَرٌ مُّبِينٌ وَإِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى “الخل ترجمہ : ” پکی پھرے گی اور قضا و قدر نازل ہوگی۔یعنی مقدمہ کی صورت بدل جائے گی۔جیسا کہ چکی جب گردش کرتی ہے تو وہ حصہ چکی کا جو سامنے ہوتا ہے باعث گردش کے پردہ میں آجاتا ہے اور وہ حصہ جو پردہ میں ہوتا ہے وہ سامنے آجاتا ہے۔مطلب یہ کہ مقدمہ کی موجودہ حالت میں جو صورت مقدمہ حاکم کی نظر کے سامنے ہے جو ہمارے لئے مضر اور نقصاں رساں ہے۔یہ صورت قائم نہیں رہے گی اور ایک دوسری صورت پیدا ہو جائے گی جو ہمارے لئے مفید ہے۔اسی طرح جو خفی اور در پر دہ باتیں ہیں وہ منہ کے سامنے آجائیں گی اور ظاہر ہو جائیں گی اور جو ظاہر ہیں وہ نا قابل التفات اور مخفی ہو جائیں گی اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ خدا کا فضل ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔یہ ضرور آئے گا اور کسی کی مجال نہیں جو اس کورڈ کر سکے۔۔۔اور پھر فرمایا کہ کہہ مجھے میرے خدا کی قسم ہے کہ یہی بات سچ ہے۔اس امر میں نہ کچھ فرق آئے گا اور نہ یہ امر پوشیدہ رہے گا اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو مجھے تعجب میں ڈالے گی یہ اس خدا کی وحی ہے۔جو بلند آسمانوں کا خدا ہے۔میرا رب اس صراط مستقیم کو نہیں چھوڑتا۔جو اپنے برگزیدہ بندوں سے عادت رکھتا ہے اور وہ اپنے بندوں کو بھولتا نہیں جو مدد کرنے کے لائق ہیں۔سو تمہیں اس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہوگی۔مگر اس فیصلہ میں اس وقت تک تاخیر ہے جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے۔“ وو سارا الهام درج کرنے کے بعد حضور فرماتے ہیں : یہ پیشگوئی ہے جو اس وقت کی گئی تھی۔جبکہ مخالف دعوے سے کہتے تھے کہ بالیقین مقدمہ خارج ہو جائے گا۔اور میری نسبت کہتے تھے کہ ہم ان کے گھر کے تمام دروازوں کے سامنے دیوار کھینچ کر وہ دکھ دیں گے کہ گویا وہ قید میں پڑ جائیں گے اور جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں۔خدا نے اس پیشگوئی میں خبر دی کہ میں ایک ایسا امر ظاہر کروں گا۔جس سے جو مغلوب ہے وہ غالب اور جو غالب ہے وہ مغلوب ہو جائے گا۔۔پھر فیصلہ کا دن آیا۔اس دن ہمارے مخالف بہت خوش تھے کہ آج اخراج مقدمہ کا حکم سنایا لے حقیقة الوحی صفحه ۲۶۸