حیات طیبہ — Page 202
202 طرف سے میرے حق میں جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو۔میری طرف سے اجازت ہے۔چنانچہ حضرت اقدس نے جب اُن کے متعلق دعا کی تو الہام ہوا۔عجل جَسَدٌ لَّهُ خَوَارٌ لَهُ نَصَبْ وَعَذَابٌ یعنی ” یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضر ور اس کو مل رہے گا۔“ اس الہام کے بعد ۲۰ فروری ۹۳ء کو جب حضرت اقدس نے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ظاہر کیا کہ " آج کی تاریخ سے جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں۔عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔“ سے چنانچہ حضرت اقدس کو ایک الہام اس کے متعلق یہ بھی ہوا کہ یقضی آمره في ست " کہ پنڈت لیکھرام کا معاملہ چھ میں ختم کر دیا جائے گا۔حضرت اقدس نے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کے ابتداء میں پنڈت لیکھرام کے متعلق مندرجہ ذیل فارسی اشعار بھی لکھے : الا اے دشمن نادان و بے راہ پترس از تیغ بران محمد ره مولی که گم کردند مردم بجو در آل واعوان محمدم الا اے منکر از شان محمد ہم از نور نمایان محمد کرامت گر چه بے نام ونشان است بیا بنگر ز غلمان محمد یعنی ” خبر داراے اسلام کے نادان اور گمراہ دشمن ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا رستہ جسے لوگ کھو بیٹھے ہیں۔آ اور اُسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزندوں اور آپ کے لائے ہوئے دین کے مددگاروں میں تلاش کر۔ہاں اے وہ شخص جو محمد صلی از اشتهار ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء ، وسه از اشتهار ۲۰ فروری ۱۸۹۳ مندرجه تبلیغ رسالت جلد سوم که استفتاء اردو حاشیہ صفحہ ۱۷