حیات طیبہ

by Other Authors

Page 193 of 492

حیات طیبہ — Page 193

193 اس کا گرنا ایسا سخت ہوا کہ سب عیسائی عقیدے اس کے نیچے کچلے گئے۔نہ تثلیث رہی نہ کفارہ۔نہ گناہوں کی معافی۔خدا کی قدرت دیکھو کہ کیسا کسر صلیب ہوا !! اس کے بعد آپ نے لغت کی کتاب ”اقرب الموارد لعنت کے معانی بیان فرمائے جو یہ ہیں۔اللَّعْنُ الْإِبْعَادُ وَالطَرُدُ مِنَ الْخَيْرِ وَمِنَ اللَّهِ وَمِنَ الْخَلْقِ وَمَنْ أَبْعَدَهُ اللَّهُ لَمْ تَلْحِقْهُ رَحْمَتُهُ وَخَلَدَ فِي الْعَذَابِ وَاللَّعِيْنُ الشَّيْطَانُ وَالْمَبْسُوحُ وَقَالَ الشَّمَاخُ الذِّئبُ كَالرَّجُلِ اللَّعِينِ۔یعنی لعنت کا مفہوم یہ ہے کہ لعنتی اس کو کہتے ہیں جو ہر ایک خیر وخوبی اور ہر قسم کی ذاتی صلاحیت اور خدا کی رحمت اور خدا کی معرفت سے بکلی بے بہرہ اور بے نصیب ہو جائے اور ہمیشہ کے عذاب میں پڑے یعنی اس کا دل بکلی سیاہ ہو جائے اور بڑی نیکی سے لے کر چھوٹی نیکی تک کوئی خیر کی بات اس کے نفس میں باقی نہ رہے اور شیطان بن جائے اور اس کا اندر مسخ ہو جائے۔اور شماخ نے ایک شعر میں لعنتی انسان کا نام بھیٹر یا رکھا ہے۔اس مشابہت سے کہ لعنتی کا باطن مسخ ہو جاتا ہے۔تم کلا مہم۔اب اعتراض یہ ہے کہ جس حالت میں لعنت کی حقیقت یہ ہوئی کہ ملعون ہونے کی حالت میں انسان کے تمام تعلقات خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں اور اس میں اور شیطان میں ذرہ فرق نہیں رہ جاتا۔تو اس وقت ہم پادری صاحبوں سے بکمال ادب یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے کہ در حقیقت یہ لعنت اپنے تمام لوازم کے ساتھ جیسا کہ ذکر کیا گیا۔یسوع پر خدا تعالیٰ کی طرف سے پڑ گئی تھی ؟ اور وہ خدا کی لعنت اور غضب کے نیچے آکر سیاہ دل اور خدا سے روگرداں ہو گیا تھا۔میرے نزدیک ایسا شخص خود لعنتی ہے کہ ایسے برگزیدہ کا نام لعنتی رکھتا ہے جو دوسرے لفظوں میں سیاہ دل اور خدا سے برگشتہ اور شیطان سیرت کہنا چاہئے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا پیارا در حقیقت اس لعنت کے نیچے آ گیا تھا۔پوری پوری خدا کی دشمنی کے بغیر تحقیق نہیں ہوسکتی۔‘ الخ آخر میں فرمایا :- پس اگر جائز نہیں تو دیکھو کہ کفارہ کی تمام عمارت گر گئی اور تلیٹی مذہب ہلاک ہو گیا اور صلیب ٹوٹ گیا۔کیا کوئی دنیا میں ہے جو اس کا جواب دے؟“ 1 لے اشتہار 4 مارچ کو مندرجه تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۳۳ تا ۳۵