حیات طیبہ — Page 194
194 اپنے ملہم مسلم من اللہ ہونے پر مخالف علماء کا نام لے لے کر اُن کو دعوت مباہلہ حضرت اقدس کے مخالف مولوی صاحبان تو آپ کو ابتداء دعوئی ہی سے مباہلہ کا چیلنج دے رہے تھے مگر آپ اس خیال سے کہ دو مسلمان فریق میں مباہلہ درست نہیں ہے۔اعراض فرماتے رہے لیکن جب علماء نے آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ شائع کر دیا۔تو آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مباہلہ کرنے کی اجازت مل گئی۔چنانچہ آپ نے ۱۸۹۲ء میں مکفر اور مکذب مولویوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اب جو شخص بھی ان مخالف علماء میں سے میرے ساتھ مباہلہ کرنا چاہے تو اُسے کھلی اجازت ہے لیکن اس وقت کوئی مولوی سامنے نہیں آیا۔اب جو پادری عبداللہ آتھم کے متعلق آپ نے پیشگوئی فرمائی۔تو مخالف علماء نے اپنی عادت کے موافق کھلم کھلا عیسائیوں کا ساتھ دیا۔اس پر آپ نے ان علماء کو مخاطب کر کے ایک اشتہار مباہلہ“ لکھا۔جس میں پہلے تو اپنے منصب مسیح موعود کو پیش کیا اور فرمایا کہ مسیح موعود کا کام ہی کسر صلیب ہے یعنی صلیب کو توڑنا۔اور اس کے لئے زبر دست حر به وفات مسیح ناصری علیہ السلام کا ثابت کرنا ہے اور پھر حضرات علماء کی اس روش پر اظہار افسوس کیا کہ وہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی پروانہ کر کے کھلم کھلا اس مسئلہ میں پادریوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔اس کے بعد آپ نے لکھا کہ: اب بھی اگر مولوی صاحبان مجھے مفتری سمجھتے ہیں تو اس سے بڑھ کر ایک اور فیصلہ ہے اور وہ یہ کہ میں ان الہامات کو ہاتھ میں لے کر جن کو میں شائع کر چکا ہوں۔مولوی صاحبان سے مباہلہ کرلوں۔اس طرح پر کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کروں کہ میں درحقیقت اس کے شرف مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہوں اور در حقیقت اس نے مجھے صدی چہار دہم کے سر پر بھیجا ہے کہ تا میں اس فتنہ کوفر وکروں کہ جو اسلام کے مخالف سب سے زیادہ فتنہ ہے اور اسی نے میرا نام عیسی رکھا ہے اور کسر صلیب کے لئے مجھے مامور کیا ہے۔“ اس کے بعد حضور نے اپنے وہ الہامات درج فرمائے جو یا عیسى الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُه سے لے کر لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔‘ تک ہیں۔آگے چل کر حضور لکھتے ہیں کہ: کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ ایسا کذاب اور دجال اور مفتری جو برابر ہیں برس کے عرصہ سے خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اب تک کسی ذلت کی مار سے ہلاک نہ ہوا۔۔۔تورات اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہو جاتا ہے کوئی