حیات طیبہ — Page 192
192 پڑھا گیا۔۲۔اسلامی اُصول کی فلاسفی۔یہ وہ لیکچر ہے جو جلسہ اعظم مذاہب لاہور میں حضرت اقدس کی طرف سے ایک ہزار روپیہ کا انعام ۲۸ / جنوری ۱۸۹۷ء جب عیسائیوں میں سے کوئی شخص اس مقابلہ کے لئے نہ آیا جس کی طرف حضرت اقدس نے انہیں ۱۴ ؍ دسمبر ۱۸۹۶ء کے اشتہار میں بلایا تھا تو آپ نے ان پر مزید حجت پوری کرنے کے لئے ہزار روپیہ کے انعام کا ایک اشتہار شائع فرمایا۔جس میں لکھا کہ : میں اس وقت ایک مستحکم وعدے کے ساتھ یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب عیسائیوں میں سے یسوع کے نشانوں کو جو اس کی خدائی کی دلیل سمجھے جاتے ہیں میرے نشانوں اور فوق العادت خوارق سے قوت ثبوت اور کثرت تعداد میں بڑھے ہوئے ثابت کر سکیں تو میں ایک ہزار روپیہ بطور انعام دوں گا۔میں سچ سچ اور حلفاً کہتا ہوں کہ اس میں تخلف نہیں ہوگا۔میں ایسے ثالث کے پاس یہ روپیہ جمع کراسکتا ہوں جس پر فریق ( مخالف ) کو اطمینان ہو۔اے یہ اشتہار چھ ہزار کی تعداد میں چھاپ کر شائع کیا گیا۔تمام مشہور پادری صاحبان کو بذریعہ رجسٹری بھیجا گیا۔مگر کسی نے جواب تک نہ دیا۔البتہ ایک غیر معروف عیسائی نے مقابلہ کی دعوت کو تو قبول نہ کیا لیکن ”کرسچین ایڈووکیٹ لکھنو میں چند اعتراضات کر ڈالے حضرت اقدس نے ان کا جواب ۲۸ فروری ۹۷ ء کے اخبارات میں شائع کروایا اور مخبر دکن مدر اس نے اار مارچ ۹۷ء کو بطور ضمیمہ شائع کیا۔حضرت اقدس کے اس جواب کا رڈ تو کوئی کیا کر سکتا تھا۔البتہ حضور کے دل میں عیسائیت کے رد کے لئے ایک نیا جوش پیدا ہو گیا۔کسر صلیب اور لعنت ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء چنانچہ آپ نے ۶ / مارچ ۹۷ء کو خدا کی لعنت اور کسر صلیب“ کے عنوان سے لکھا کہ: چونکہ عیسائیوں کا ایک متفق علیہ عقیدہ ہے کہ یسوع مصلوب ہو کر تین دن کے لئے لعنتی ہو گیا تھا اور تمام مدار نجات کا ان کے نزدیک اسی لعنت پر ہے تو اس لعنت کے مفہوم کی رو سے ایک ایسا سخت اعتراض وارد ہوتا ہے جس سے تمام عقیدہ تثلیث اور کفارہ اور نیز گناہوں کی معافی کا مسئلہ کالعدم ہو کر اس کا باطل ہونا بدیہی طور پر ثابت ہو جاتا ہے۔اگر کسی صاحب کو اس مذہب کی حمایت منظور ہے تو جلد جواب دے ورنہ دیکھو یہ ساری عمارت گر گئی اور ا اشتہار ۲۸ جنوری ۱۸۹۷ء